فهرس الكتاب

الصفحة 4304 من 6343

اس قسم کی تعلیم سن کر ان لوگوں سے اور تو کچھ بنتا نہیں یہ پوچھنے لگتے ہیں کہ جس روز نیک وبد کاموں کا بدلہ ملے گا وہ دن کب ہوگا جس کا نام تم لوگ قیامت رکھتے ہو حالانکہ حقیقت الامر یہ ہے کہ قاہمت کی گھڑی کا علم بھی اسی اللہ کو ہے وہی جانتا ہے کہ اس کا وقت کب ہے اسی پر کیا موقوف ہے جو جو پھل پھول اپنے گابھوں سے نکلتے ہیں اور جو مادہ حاملہ ہوتی اور جنتی ہے یہ سب واقعات اس اللہ کے علم سے ہوتے ہیں اس لئے اس کو نہ کسی کے بتلانے کی ضرورت اور نہ کسی کے سمجھانے کی حاجت۔ جس دن کی بابت یہ سوال کرتے ہیں اس کی تاریخ کا بتانا تو مصلحت الٰہی نہیں۔ مگر اتنا بتانا تو ضروری ہے اس روز ان مشرکوں کو بلا کر پوچھے گا میرے شریک جن کو تم میرے شریک جانا کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں وہ آج تم کو کیوں فائدہ نہیں پہنچاتے؟ وہ جواب میں کہیں گے اے ہمارے مولا؟ ہم آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی ان کا واقف نہیں۔ وہ سمجھیں گے کہ دنیا میں ملزم اپنے جرم سے انکاری ہوجاتا تھا تو بسا اوقات عدم ثبوت کی حالتیں چھوٹ جاتا تھا یہاں بھی ایسا ہی ہوگا اس لئے وہ اپنے صحیح صحیح واقعات سے انکار کر جائیں گے اور جن جن چیزوں کو وہ پہلے پکارا کرتے تھے یعنی جن جن لوگوں سے دعائیں مانگا کرتے تھے ان سب کو وہ بھول جائیں گے اور گمان غالب سمجھیں گے کہ اقرار کرنے میں ہمارے لئے مخلصی نہیں مگر عالم الغیب اللہ کے سامنے ان کی ایک بین نہ چلے گی۔ غور کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ انسان میں کئی قسم کے عیوب ہوتے ہیں صریح شرک وکفر تو سب جانتے ہیں ان کے سوا اور بھی ہیں وہ یہ کہ انسان بھلائی مانگنے سے تھکتا نہیں مانگتا جائے اور ملتی جائے لیکن کوئی وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ مصلحت الٰہی اس کے منشاء کے خلاف ہوتی ہے یہ کچھ چاہتا ہے اللہ کچھ۔ پس اگر مصلحت اللہ تعالیٰ سے اس انسان کو کسی قسم کی برائی پہنچتی ہے تو بالکل بے امید ہوجاتا ہے اور اگر بعد تکلیف پہنچنے کے ہم اس کو اپنی طرف سے رحمت' آرام اور آسائش پہنچاتے ہیں تو بجائے شکر گذار ہونے کے کہنے لگتا ہے یہ تو میرا حق ہے میں اپنی لیاقت کی وجہ سے اس کا مستحق ہوں اور اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ اس غرور میں یہ بھی کہہ اٹھتا ہے کہ میں قیامت کو ہونے والی نہیں جانتا۔ یہ سب ملّاں لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں نہ کوئی قیامت ہے نہ دوزخ نہ بہشت۔ اور اگر فرضا میں مر کر اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر گیا بھی تو وہاں بھی اس کے پاس میرے لئے اچھی جگہ ہوگی۔ یہ ایسے لوگوں کے خیالات جو دراصل اللہ کے احکام سے منکر ہیں پس وہ سن لیں کہ ہم (اللہ) ان کافروں کو ان کے کاموں کی خبریں دیں گے اور ان کو سخت عذاب چکھا دیں گے کیسے نامعقول لوگ ہیں اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ دنیا کا ہیرو پھیر سب ہمارے اختیار میں ہے کسی کو امیر کرنا امیر کو غریب کردینا ہماری قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے مگر انسان ایسا شریر ہے کہ جب ہم ایسے انسان پر انعام کرتے ہیں یعنی کسی قسم کی آسائش و آرام دیتے ہیں تو ہمارے حکموں سے منہ پھیر لیتا ہے اور اکڑ کر چلتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعا کرنے لگ جاتا ہے غرض انسان کی عملی تصویر بالکل اس شعر کی مانند ہے ؎

عامل اندر زمان معزولی

شیخ شبلی وبایزید شوند

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت