فهرس الكتاب

الصفحة 5458 من 6343

ہاں اس میں شک نہیں کہ بعض انسان بے شک جلد باز ہیں کہ دیکھنے والا سمجھے کہ انسان پیدائشی تھڑولا ہے اسی لئے تو اس کی حالت ہے کہ جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے واویلا اور ہائے وائے کرنے لگ جاتا ہے اور جب اسے کسی قسم کی خیروبرکت پہنچتی ہے تو دوسروں تک اس کا فیض نہیں پہنچاتا بلکہ روک لیتا ہے مگر یہ حال سارے انسانوں کا نہیں جو لوگ نمازوں کے ادا کرنے پر دوام کرتے ہیں وہ ایسے نہیں اور جن کے مالوں میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں کے لئے یعنی جو نہ مانگنے کی وجہ سے اغنیاء کے عطیات سے محروم رہ جاتے ہیں درحقیقت وہ مستحق ہوتے ہیں ان دونوں قسموں کے مستحقین کے لئے جن کے اموال ہیں حق مقرر ہیں وہ ان کو برابر دیتے ہیں اور جو لوگ روز جزا قیامت کی تصدیق کرتے ہیں وہ بھی ایسے تھڑدلے نہیں ہیں اور جو لوگ اپنے پروردگار کے عذاب سے ہر وقت اور ہر آن ڈرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہے کہ ان کے پروردگار کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں اور وہ لوگ بھی گھبرانے والے تھڑولے نہیں جو بدکاری سے اپنے فرجوں شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی زناکاری وغیرہ کے ذریعہ شہوت رانی نہیں کرتے مگر جو لوگ بوقت ضرورت اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے ملتے ہیں ان کو ایسا کرنے میں ملامت نہیں ہاں جو لوگ اس مذکورہ طریق کے سوا کوئی اور طریق اختیار کریں گے وہ حد شرع سے باہر نکلے ہوئے ہوں گے اور وہ لوگ بھی جلد باز تھڑولے نہیں جو اپنی امانات اور وعدوں کی نگہداشت کرتے ہیں اور وہ لوگ بھی کم حوصلہ لوگوں سے نہیں ہیں جو اپنی شہادت واجبہ پر قائم رہتے ہیں اور وہ لوگ بھی ان سے مستثنیٰ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں پڑھتے ہیں اور پڑھنا ہی نہیں بلکہ ایک پڑھ کر دوسری کی فکر میں رہتے ہیں مثلا دھوپ یا گھڑی دیکھتے رہتے ہیں۔ ان اوصاف والے کیوں تھڑولے نہیں اس لئے کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ جو خیروبرکت ملی ہے یہ اللہ کے حکم سے ملی ہے اور جو تکلیف آئی ہے یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے اس لئے وہ نہ خیر پر اتراتے ہیں نہ شر پر گھبراتے ہیں یہی لوگ بہشتوں میں عزت کے ساتھ رہیں گے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت