فهرس الكتاب

الصفحة 5212 من 6343

اس سے ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں تمہارے بزرگ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کو جو تم سے پہلے گذرے ہیں ان کو دیکھو وہ کیسے صاف دل یک طرفہ موحد تھے ان کی زندگی میں تمہارے لئے بہت عمدہ اور نیک مثال موجود ہے اس کی پیروی کرو خاص کر وہ وقت جب انہوں نے اپنی قوم سے علانیہ کہہ دیا تھا کہ ہم تم سے اور اللہ کے سوا جن کی تم لوگ عبادت کرتے ہو ان سب سے علیحدہ ہیں ہم تمہارے طریقے اور مذہب کے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے مذہبی عداوت اور بغض پیدا ہوگیا ہے کیونکہ تم ہم کو شرک کی طرف بلاتے ہو جو ہمیں ناپسند ہے اور ہم تم کو توحید کی طرف بلاتے ہیں جو تم کو ناپسند ہے لہذا ہم فریقین میں عداوت تک نوبت پہنچ چکی ہے اس لئے ہم بھی کمال راستی سے اعلان کرتے ہیں کہ ہم فریقین میں یہی حالت رہے گی جب تک تم اللہ اکیلے معبود پر ایمان نہ لائو یعنی یہ عداوت اور رنجش اس وقت ختم ہوگی جب تم مومن ہوجائو گے۔ کیونکہ ہماری تمہاری رنجش کوئی ذاتی نہیں تمہارے شرک وکفر کی وجہ سے عارضی ہے جب وہ وجہ اٹھ جائے گی تو رنجش خودبخود دور ہوجائے گی یہ ہے ابراہیمی سنت۔ پس تم مسلمان دین دار لوگ ان بزرگوں کی روش اختیار کرو اور ان کی سنت پر چلو۔ ہاں ابراہیم کی ساری عمر میں ایک بات ناقابل اتباع ہے وہ بھی سن لو وہ ان کا اپنے مشرک باپ کو یہ کہنا ہے کہ میں تیرے لئے اللہ سے بخشش مانگوں گا اور میں اے بابا تیرے لئے خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ باپ چونکہ مشرک تھا اور مشرک کی بخشش نہیں ہے اس لئے شریعت الٰہیہ میں مقرر ہے کہ مومن مشرک کے لئے بخشش نہ مانگیں اس فقرہ کے سوا ان کی یہ دعا بے شک تمہارے لئے قابل عمل ہے جو ان سب لوگوں نے مانگی تھی کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری طرف ہم جھکے ہیں اور تیری طرف ہی ہمارا رجوع ہے اپنی زندگی میں تو تیرے محتاج ہیں بعد وفات بھی تیری ہی طرف رجوع ہیں

آیت قرآنی ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین و لوکالوا اولی قربی من بعد ما تبین لھم انھم اصحب الجحیم (توبہ) یعنی نبی اور مومنوں کو مشرک کے حق میں بخشش نہ مانگنی چاہیے چاہے قریبی ہوں بعد اس سے کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ وہ جہنمی ہیں اس آیت کی طرف ہم نے اشارہ کیا کیونکہ اس میں انبیاء اور ایمانداروں کا مشرکین کے حق میں بخشش مانگنا ناجائز قرار دیا ہے ممکن ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ابھی یہ اطلاع نہ ملی ہوجیسے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافق کا جنازہ پڑھا پڑھنے کے بعد نہی پہنچی اور فرمایا۔ لا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ حضرت ابراہیم کو اطلاع ملی اور باپ کا خاتمہ بھی شرک پر معلوم ہوا تو بیزار ہوگئے چنانچہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ فلما تبین لہ انہ عدو اللہ تبرأ منہ یعنی جب ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ ان کا باپ اللہ کے دین کا دشمن ہے یعنی شرک پر مصر ہے یا شرک پر مر گیا ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا۔ منہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت