فهرس الكتاب

الصفحة 5173 من 6343

کیا تم باوجود مخلص ہونے کے اس حکم سے ڈر گئے کہ اپنے نجویٰ (کانا پھوسی) سے پہلے صدقہ دے لو۔ تمہیں چاہیے تھا کہ تم خوشی خوشی اس حکم کی تعمیل کرتے پھر جب تم نے ایسا نہیں کیا یعنی نجویٰ سے پہلے صدقہ نہیں دیا اور اللہ نے تمہارے حال پر نظر عنایت کی ہے۔ تو اب تم نماز پڑھتے رہو۔ اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ اور رسول کی تابعداری کرتے رہو۔ اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔ اس سے کسی کا عجز بجر مخفی نہیں۔ تم مسلمان نہیں جانتے کہ یہ منافق لوگ مجلس نبوی میں آ کر کیوں ایسے دل آزار کام کرتے ہیں۔

پہلے حکم سے کئی دنوں بعد یہ آیت اتری۔ اس آیت کی تفسیر جو اوپر کی گئی ہے عامہ مفسرین کی یہی رائے ہے اس تفسیر کے ساتھ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حکم صدقہ کا منسوخ ہوگیا۔ میرے نزدیک اس آیت کا سیاق نسخ کے لئے نہیں بلکہ اصل حکم کو مضبوط کرنے کے لئے ہے سارا دارمدار اس پر ہے کہ اذ کی جزا کیا ہے اور تفعلوا کا مفعول بہ کیا ہے میرے نزدیک ترجمہ یوں ہے کہ جب کہ تم نے باوجود ناداروں کو معافی ہونے کے بھی نجوی کیا ہی نہیں تو بس ہمیشہ کے لئے اس فعل کو چھوڑو اور نماز اور زکوٰۃ وغیرہ فرائض کی ادائیگی میں مشغول ہوجائو (اللہ اعلم۔ منہ)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت