فهرس الكتاب

الصفحة 5930 من 6343

دنیا میں جتنی خرابیاں ہیں قرآن مجید سب کی اصلاح کرنے کو آیا ہے ان خرابیوں میں سے ایک خرابی کم تول بھی ہے جس کو بدنیت دکاندار صنعت تجارت جان کر کرتے ہیں ایسی خرابی کو بند کرنے کے لئے ان کو سنا دے کہ ان کم دینے والوں کے لئے افسوس ہے جو لوگوں سے لیتے وقت ٹھوک بجا کر پورا پورا بلکہ دائو چلے تو زیادہ بھی لیتے ہیں اور جب ناپ سے یا وزن سے دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں لطف یہ ہے کہ دیکھنے والے کو کبھی معلوم نہیں ہونے دیتے بظاہر پیمانہ اور ترازو دونوں ٹھیک ہیں مگر اندر کمی کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک بڑے دن میں جو وقت الحساب ہے اٹھائے جائیں گے جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اور حساب دیں گے جو لوگ اس دن کو مانتے ہیں وہ تو اپنا عمل اعتقاد کے موافق کریں اور جو اس دن کو نہیں مانتے انہیں ماننا چاہیے کیونکہ اس کے نہ ماننے سے انسان بدکار رہتا ہے اور بدکاری کا نتیجہ یہ ہے کہ بدکاروں کے اعمال بدسجین میں ہیں اور تمہیں کیا معلوم کہ سجین کیا ہے وہ ایک بہت بڑی لکھی ہوئی کتاب ہے یعنی مسلہائے بدکاراں ہے اس روز یعنی جزاوسزا کے دن جھٹلانے والوں کے لئے افسوس ہوگا۔ جو اس دنیا میں یوم الجزا کو نہیں مانتے اور دراصل بات یہ ہے کہ اس یوم الجزاء کو حدود الہیہ سے گزر جانے والے بدکار ہی جھٹلاتے ہیں کیونکہ اگر وہ یوم الجزاء پر یقین رکھیں تو ان کو بدعملی کرتے وقت دل میں کھٹکا ہو جس سے ان کے عیش میں تکدر آجائے اور بے لطفی ہو اس لئے وہ سرے سے اس بات کے قائل ہی نہیں ہوتے کہ نیک وبد اعمال کا کوئی بدلہ ہے بلکہ ان کا قول یہی ہے۔

صبح تو جام سے گذرتی ہے

شب دل آرام سے گذرتی ہے

عاقبت کی خبر اللہ جانے

اب تو آرام سے گذرتی ہے

اسی لئے تو ان لوگوں کی یہ حالت ہے کہ جب کبھی ان پر ہمارے حکم پڑھے جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں کہیں موسیٰ عیسیٰ کا ذکر ہے تو کہیں فرعون قارون کا۔ یہ تو محض بچوں کے بہلانے کی باتیں ہیں ہم بڑی عمر کے اس قسم کے قصوں سے نہیں بہلتے ایسا نہیں جو شخص مذکور کہتا ہے بلکہ ان کے دلوں پر ان کے کئے ہوئے کاموں نے زنگ لگا دیا ہے اس لئے وہ سمجھ نہیں سکتے کہ

از مکافات عمل غافل مشو

گندم از گندم بروئد جوزجو

بے شک یہ لوگ اس دن جس روز سب سے بڑی نعمت اللہ کی زیارت ہوگی اپنے رب سے پردے میں کئے جائیں گے یعنی ایسے لوگوں کو اللہ کی زیارت نہ ہوگی پھر یہ سارے کے سارے جہنم میں داخل ہوں گے پھر ان کو کہا جائے گا کہ یہ وہی دن ہے جس کی تم لوگ تکذیب کرتے تھے ان کے مقابل

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت