فهرس الكتاب

الصفحة 5278 من 6343

پس تم اپنے نفسانی بخل کو فیاضی پر غالب نہ آنے دو۔ بلکہ فیاضی کو بخل پر غالب کات کرو سنو ! اگر تم اللہ کی راہ میں فقراء اور مساکین کی حاجت روائی میں خرچ کرو گے تو گویا اللہ کو قرض حسنہ دو گے اللہ کو قرض حسنہ دینے سے یہ مطلب نہیں کہ اللہ غریب نادار ہے اور تم امیر اور مالدار ہو۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ کارخیر میں خرچ کرتے ہوئے تم دل میں یہ جانو کہ ہم اللہ کے پاس جمع کرتے ہیں جو مال ایسی نیت سے خرچ کرو گے تو اللہ اس مال کو بڑھا کر تمہیں دے گا ایک پیسہ کے سات سو پیسوں تک بلکہ ان سے بھی زیادہ عنائت کرے گا اور اس پر مزید یہ کہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور ہر طرح کے احسان تم پر کرے گا اللہ بندوں کے نیک کاموں کا بڑا قدردان اور علم والا ہے اس سے کسی کا نیک وبد مخفی نہیں باوجود جاننے کے بوجہ حلم کے جلدی سزا نہیں دیتا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت