فهرس الكتاب

الصفحة 5253 من 6343

دیکھئے تو بھلا اے نبی جب تیرے پاس آتے ہیں اور تو ان کو دیکھتا ہے تو تجھے ان کے جسم بوجہ ڈیل ڈول کے حیران کرتے ہیں تو سمجھتا ہے کہ یہ بڑے معزز اور شریف لوگ ہیں اس لئے جب وہ بات کرتے ہیں تو تو ان کی بات پر توجہ کر کے سنتا ہے جیسے کسی معزز اور شریف کی بات سنی جاتی ہے کیونکہ ان کی ظاہر وجاہت ایسی ہے گویا وہ بہت بڑے لکڑی کے کھنبے ہیں جن کے ساتھ لوگ بیٹھے ہوئے تکیہ لگاتے ہیں۔ بظاہر شکل وصورت تو ایسی ہے۔

خواہ مخواہ معتبر باشد

مگر اندرونی کمزوری ان میں ایسی ہے۔ کہ ہر ایک زور دار آواز کو اپنے ہی برخلاف جانتے ہیں۔ کہیں کوئی جہاد کی آواز ہو تو اپنی موت جانتے ہیں کہیں آندھی تیز چلے تو موت کی طرح ڈرتے ہیں۔ ان کی نرم نرم باتیں سن کر پھندے میں نہ آنا بلکہ دل میں یقین رکھنا کہ یہی اصل دشمن ہیں پس تو اے پیغمبر (علیہ السلام) ان دشمنوں سے بچتے رہیو ! ان کو اللہ کی مار کہاں کو بہکائے جا رہے ہیں۔

مُسَنَّدَہٌ اسم مفعول کا صیغہ ہے اس کا ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب نے کیا ہے لکڑی لگائے دیوار سے۔ ان معنے سے ان کی جسامت اور ڈیل ڈول ثابت نہیں ہوتی کیونکہ دیوار سے پتلی لکڑی بھی لگائی جاتی ہے میں نے اسکو اسم مفعول کہا ہے کہ انکی جسامت اور ڈیل ڈول بھی ثابت ہو یعنی بڑے ستون جن کے ساتھ لوگ سہارا لیں جیسے حرم کعبہ یا حرم مسجد نبوی کے کھنبے موٹے موٹے ہیں ہندوستان میں انکی مثل سری نگر کشمیر کے مسجد کے ستون ہیں۔ منہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت