فهرس الكتاب

الصفحة 1259 من 6343

کیا تم جو جہاد اور اعلاء کلمۃ اللہ سے غافل اور سست ہو کر بٹھگ رہے ہو تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم اسی طرح اور انہی اعمال پر چھوڑے جائو گے ابھی تو اللہ نے تم میں سے مجاہدوں کو اور جنہوں نے اللہ اور رسول کے سوا کسی کو اپنا مخلص دوست نہیں بنایا ممتاز نہیں کیا ایسا کہ لوگ دیکھ لیں کہ یہ مخلص ہیں اور وہ منافق پھر ایسا کیونکر ہوسکتا ہے کہ تم اسی حال پر قانع ہو کر اس تمیز سے غافل رہو اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب کام معلوم ہیں اسے اپنے علم حاصل کرنے کو اس تمیز کی کوئی ضرورت نہیں جیسے تم غلطی سے یہ سمجھے بیٹھے ہو مشرکوں کو بھی ایک غلط خیال جم رہا ہے کہ ہم مسجد الحرام کی تعمیر اور آبادی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ہمیں ثواب ملے گا۔ حالانکہ قانون الٰہی میں مشرکوں سے ممکن ہی نہیں کہ جس حالت میں اپنے حق میں کفر کے مقر ہوں اللہ کی مسجدیں آباد کریں کیونکہ مسجدیں خالص توحیدی عبادت کے لئے ہیں اور یہ کام خالص موحدین کا حصہ ہے ان مشرکوں کے تو تمام اعمال ضائع اور بیہودہ ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے حقیقت میں اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور خود نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے کیونکہ مسجد کی آبادی یہ ہے کہ اس میں اللہ کی خالص عبادت ہو پس یہی لوگ ہدایت یا بوں سے ہوجائیں گے کیا تم مشرکوں نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد الحرام کی ظاہری مرمت کرنے کو ان موحد لوگوں کے کاموں کے برابر سمجھ لیا ہے جو اللہ پر اور پچھلے دن پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں یہ بڑی غلط رائے ہے یہ دونوں قسم کے لوگ اللہ کے پاس برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ مسجدوں کا بنانا اور آباد کرنا تو اس لئے ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت ان میں کرے خالصہ عبادت مقصود بالذات ہے اور مرمت مساجد بالعرض ہے پس موحد عابد کے برابر کافر مشرک کیسے ہوسکتا ہے اس لحاظ سے کہ بانیان مساجد موحدوں کو ہر طرح سے نور ایمان سے تازگی ہوتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے تعلق دلی لگاتے ہیں کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ یہ دونوں کام برابر کیسے ہوسکتے ہیں وہ ظالم ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو سمجھ نہیں دیتا کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لا کر بوقت ضرورت ہجرت کی ہے اور اپنے جان و مال سے اللہ کی راہ میں لڑے اللہ کے ہاں ان کے لئے بہت بڑے درجے ہیں اور سچ پوچھو تو یہی لوگ کامیاب ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت اور خوشنودی اور رہنے کے لئے باغوں کی خوش خبری دیتا ہے ان باغوں میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اس سے اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کمی نہ ہوگی کیونکہ اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے مسلمانو ! اگر ایسی نعمتوں سے متمتع ہونا چاہتے ہو تو علاوہ نیک اعمال اور ترک کفر کے یہ بھی ضرور ہے کہ تمہارے ماں باپ اور بہن بھائی ایمان کے مقابلے کفر کو پسند کریں تو ان سے بھی خلوص مودت نہ رکھو یعنی مذہبی امور میں ان کی ناراضگی کا خیال نہ کیا کرو دنیاوی امور میں ان سے بے شک سلوک کئے جائو ان کی خاطر تواضع بجا لائو لیکن دین میں ان کی اطاعت اور دوستی نہ رکھو جو لوگ تم میں سے ایسے لوگوں سے دوستی نہ رکھو جو لوگ تم میں سے ایسے لوگوں سے دوستی محبت رکھیں گے وہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالم ٹھہریں گے تو اے نبی ان مسلمانوں سے کہہ دے کہ اگر تمہارے ماں باپ اور بیٹے بیٹیاں اور بھائی بند اور بیوئیں اور کنبے اور برادری کے لوگ اور مال و اسباب جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت اور کاروبار جس کے خسارہ سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جن کو رہنے کے لئے تم پسند کرتے ہو یہ سب کچھ تم کو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پسند اور مرغوب ہیں تو خیر صبر کرو جب تک اللہ تعالیٰ تمہاری ہلاکت کے لئے اپنا حکم بھیجے اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ایسے بدکاروں کو توفیق خیر نہیں دیا کرتا جو ہمیشہ اسی دنیا کے دھندوں میں رہ کر مر جاتے ہیں ایسے لوگوں کے حق میں مولوی روم فرماتے ہیں

اہل دنیا کافر ان مطلق اند

روز و شب در زق زق و در بق بق اند

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت