فهرس الكتاب

الصفحة 4983 من 6343

دیکھو اس کی شان ایسی بلند تر ہے کہ کل آسمان والے اور زمین والے سب لوگ اپنی حاجات اسی واحد لا شریک سے مانگتے ہیں۔ مانگنا ان کا دو طرح سے ہے ایک فطرۃ دوم حاجۃً۔ یعنی جس وقت کسی مخلوق کو کسی قسم کی حاجت ہوتی ہے تو وہ طبعاً اپنے خالق کی طرف جھکتی ہے دوسری صورت زبان سے طلب کرنے کی ہے ان دونوں قسم کی حاجتوں کو پورا کرنے والا اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ وہ (اللہ) ہر دن بلکہ ہر آن ایک بلند شان کے مطابق مخلوق کے انتظام میں ہے۔ کوئی دن اور کوئی وقت ایسا نہیں آیا جس میں وہ دنیا کے انتظام اور نگرانی سے بے خبر ہو۔ اگر وہ بے خبر ہو۔ یا انتظام کسی اور کے ہاتھ میں دے دے۔ تو دنیا کا وجود نہ رہے۔ بلکہ فوراً فنا ہوجائیں۔ کیا تم نے مولانا جامی مرحوم کا قول نہیں سنا۔ ؎

اوچو جان ست وجہاں چوں کالبد

کالبد ازوے پذیرد آلبد

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت