فهرس الكتاب

الصفحة 5152 من 6343

بعض لوگوں کو وہم ہوتا ہے کہ دنیا میں تکلیفات آتی ہیں تو نیک وبد دونوں کو آتی ہیں نہ بد ان سے بچتے ہیں نہ نیک چھوٹتے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو بھی مصیبت آتی ہے زمین پر ہوجیسے زراعت یا پھلوں کا نقصان یا خود تمہارے نفسوں پر ہوجیسی بیماریاں وغیرہ یہ سب کچھ ہماری تقدیری نوشت میں اس کے پیدا کرنے سے پہلے کی مکتوب ہے۔ یہ خیال نہ کرو کہ اتنے اتنے واقعات اتنی مدت پہلے کس طرح لکھے گئے۔ سنو ! اس میں شک نہیں کہ یہ کام اللہ تعالیٰ پر آسان ہے کیونکہ اس کا علم کسبی یا وہبی نہیں بلکہ ذاتی اور ازلی ابدی ہے مگر تم کو اس لئے یہ بتایا گیا ہے کہ تم لوگ کسی ضائع شدہ چیز پر رنجیدہ نہ ہو اور جو تم کو اللہ نے دی ہے اس پر اترائو نہیں بلکہ اللہ کی تقدیر جان کر ضائع پر صبر کرو۔ اور حاصل شدہ پر شکر۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ کے ہاں متکبر شمار ہو گے۔ اور اللہ تعالیٰ متکبروں شیخی بازوں سے محبت نہیں کرتا جو مال کے گھمنڈ میں بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کرنے کا حکم کرتے ہیں۔ یعنی نہ اپنی ذات سے فیاض ہیں نہ دوسرے کو فیاضی کا مشورہ دیتے ہیں بلکہ موقع بموقع یہی کہتے ہیں کہ میاں ان کنگلوں کا کیا ہے۔ یہ تو اسی طرح مانگا ہی کرتے ہیں ہم لوگ اگر ان کے کہنے میں آجائیں تو کل ہی ان جیسے ہوجائیں ایسی ایسی باتیں کر کے اللہ کے حکم سخاوت سے منہ پھیرتے ہیں۔ اور نہیں سمجھتے کہ جو کوئی بھی اللہ کے احکام سے منہ پھیرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اللہ اپنی ذات میں بے پرواہ تعریف کے لائق ہے۔ کسی شخص کی روگردانی اس کو مضر نہیں۔ نہ اس کا کوئی کام رکتا ہے نہ کسی کا انکار کرنا اس میں نقص پیدا کرسکتا ہے۔ کیونکہ وہ بذاتہ جامع اور اوصاف حمیدہ ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت