فهرس الكتاب

الصفحة 4258 من 6343

میں اللہ رحمن رحیم ہوں یہ کتاب قرآن مجید رحمن رحیم کی صفت رحمانیت کے تقاضا اور اس کی طرف سے نازل ہوئی ہے یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کے احکام کھول کھول کر بیان کئے گئے ہیں اس کا نام قرآن عربی ہے ان لوگوں کے لئے بیان ہوئی ہیں جو علم رکھتے اور علم سے کام لیتے ہیں یعنی جو لوگ الٰہی کاموں کو جانتے اور احکام الٰہیہ کی پہچان رکھتے ہیں انکو یہ کتاب بہت جلد ہدایت کرتی ہے یہ کتاب نیک کاموں پر خوش خبری دینے والی اور برے کاموں پر ڈرانے والی ہے دونوں باتیں کیسی مفید اور ضروری ہیں مگر پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ اس سے روگردان ہو کر اس کو نہیں سنتے اور اس کے جواب میں کہتے ہیں ہم اس کو نہ سنیں گے کیونکہ جس بات کی طرف تو ہم کو بلاتا ہے ہمارے دل اس سے پردوں میں محفوظ ہیں اور ہمارے کانوں میں ٹھوس سے گرانی ہے اور ہم میں اور تجھ میں ایک حجاب پردہ ہے پس تو اپنا کام کئے جا ہم اپنا کریں گے۔ یہ ان کا جواب کیسا نامعقول ہے کہ نصیحت کو بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ مگر بیمار' مخلص طبیب کی بات کو سننا نہ چاہے تو کیا طبیب بھی اس کو چھوڑ دے گا۔ ہرگز نہیں اس لئے بطور تبلیغ تو اے نبی ! ان لوگوں کو کہہ کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں تمہاری طرح کا ایک آدمی ہوں جیسے تم ماں باپ سے پیدا ہوئے ہو میں بھی ہوں جیسے تم کھاتے پیتے ہو میں بھی کھاتا ہوں۔ ہاں فرق مراتب ضرور ہے سو وہ یہ ہے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے یعنی مجھ الٰہی حکم پہنچا ہے کہ تمہارا سب کا معبود ایک ہے پس تم اس کی طرف سیدھے ہو کر چلو اور گناہوں پر اس سے بخشش مانگا کرو اور یقین جانو کہ جو مشرک لوگ اپنے آپ کو شرک کی نجاست سے پاک نہیں کرتے اور آخرت کی زندگی سے بھی منکر ہیں ان کے لئے تباہی اور تباہی پر افسوس ہے وہ اس وقت افسوس کریں گے مگر ان کا افسوس کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ وہ موقع افسوس کا نہ ہوگا۔ ہاں جو لوگ ایمان لا کر نیک عمل کئے ہوں گے ان کے لئے غیر منقطع اجر ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوگا اور وہ دائمی عیش میں رہیں گے پس تم دیکھ لو کہ تم کدھر ہونا پسند کرتے ہو۔ اے نبی ! تو ان کو کہہ تم جو اس سیدھی بات اور سچی تعلیم کو نہیں مانتے کیا تم اس ذات پاک اللہ سے منکر ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا یعنی اڑتالیس گھنٹوں کی مدت میں جتنی دو دن کی ہوتی ہے زمین کو موجود کردیا۔ گو اس وقت سورج نہ تھا جس سے دن رات میں امتیاز اور شمار ہوتا۔ اتنا کام وہ ایک لمحہ میں بھی کرسکتا تھا مگر زمین کے تغیرات اس کے مقتضی تھے کہ اتنی دیر لگے اس کی حکمت کا تقاضا بھی یہی تھا غرض اسی نے زمین کو پیدا کیا جس پر تم لوگ بستے اور رہتے سہتے ہو اور تم اس کے لئے شریک بناتے ہو۔ یہ اللہ تمام جہان کا پروردگا ہے یہاں تک کہ تمہارے مصنوعی معبودوں کا بھی یہی پروردگار ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت