فهرس الكتاب

الصفحة 6133 من 6343

سنو جی ایک ہی بات ہے جس پر دین اور مذہب کی بنیاد ہے بلکہ وہی دین ہے اور وہی مذہب ہے وہ کیا ہے نفس کو بری آلائشوں سے پاک کرنا چونکہ تم لوگ منکر ہو کا ہے کو مانو گے ہم حلفیہ کہتے ہیں قسم ہے سورج کی او اس کی روشنی کی اور قسم ہے قمر کی جب وہ اس کے پیچھے آتا ہے قسم ہے دن کی جب وہ اس سورج سے روشنی لیتا ہے اور قسم ہے سیاہ رات کی جب وہ سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتی ہے یعنی اس کی سیاہی پھیل جاتی ہے اور قسم ہے آسمان کی اور جس پاک اللہ نے اس کو بنایا اور قسم ہے زمین کی اور جس نے اسے پھیلایا ہے اور قسم ہے ہر نفس کی اور جس نے اسے ٹھیک کیا پھر اس کو برائی اور بھلائی کی سوجھ دی یعنی ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے ہم ٹھیک کہتے ہیں کہ جو کوئی نفس کو برائیوں اور بری آلائشوں سے پاک کرے وہ یقینا اللہ کے پاس اپنے مقصد نجات میں کامیاب ہوگا اور جو اس نفس کو برائیوں میں گاڑ دے گا وہ نامراد رہے گا

انسان کا نفس مثل سونے کے ہے جو کان سے خاک آلودہ نکلتا ہے بعد نکالنے کے اسے صاف کرتے ہیں تو قیمت پاتا ہے اسی طرح انسانی نفس فطرتاً شرارت آمیز ہے اسی لئے ملائکہ نے کہا تھا۔ اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا اس لئے ضرورت ہے کہ نجات کا متلاشی نفس کو شرارت کی آمیزش سے پاک کرے وہ شرارت کیا ہے منعم کی ناشکری۔ ہم جنس سے حسد۔ نچلے لوگوں پر غرور۔ کینہ عداوت سب سے بڑی بات اللہ سے بے نیازی۔ جو شخص نفس کو ان فطری آلائشوں سے مثل سونے کے پاک کرے وہ مثل سونے کے قیمت پاوے گا جس کا نام نجات ہے اور جو ان آلائشوں میں گڑار ہے وہ خاک آلودہ سونے کی طرح قدر و قیمت سے بے نصیب رہے گا یہی معنی ہیں قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا۔ اللّٰھم اجعلنَا من المفلحین 12 منہ

یہی وہ تعلیم ہے جو حضرات انبیاء کرام دینے آئے چنانچہ قوم ثمود (جو بہت پرانی قوم ہے اس) کی طرف ہم نے حضرت صالح کو رسول کر کے بھیجا جب انہوں نے ان کو وعظ ونصیحت کی تو ثمودیوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اسے جھٹلایا کہنے لگے ہم تیری نہیں سنیں گے کیونکہ تو جھوٹا ہے اس کافر قوم کا صالح پیغمبر (علیہ السلام) سے دیر تک جھگڑا رہا یہاں تک کہ ان کی ہلاکت کا سامان مہیا ہوگیا جب ان میں ایک بڑا شریر النفس (قیدار) کھڑا ہوا (اور اس نے اعجازی اونٹنی کو تکلیف سے ماردیا جس کی تفصیل یہ ہے کہ ثمود قوم نے خود ہی اعجازی اونٹنی مانگی جب وہ نبی کی دعا سے پیدا ہوئی تو وہ لوگ اس کی ایذا رسانی کے درپے ہوئے پس ان کو صالح رسول اللہ نے نہایت نرمی سے کہا اللہ کی پیدا کی ہوئی اونٹنی اور اس کا پینے کا حصہ چھوڑ ! دو مگر وہ باز نہ آئے کیونکہ پانی کی تقسیم تھی ایک دن اس اکیلی اونٹنی کا دوسر ادن ساری اونٹنیوں کا تھا پس انہوں نے اس صالح نبی کو جھٹلایا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں پس پھر کیا تھا ان کے پروردگار یعنی اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کے سبب سے ان کو تباہ کردیا ایسا تباہ کیا کہ سب کا صفایا کردیا اور ان کے بدلہ لینے سے ڈرتا نہ تھا یعنی جس طرح دنیا میں کوئی بادشاہ کسی دشمن کو مغلوب کر کے زیادہ ستانا نہیں چاہتا اس خیال سے کہ کبھی اس کو مجھ پر غلبہ ہوجائے تو اس سے زیادہ مجھے تکلیف نہ دے یا اس کا کوئی حمائتی مجھ پر ٹوٹ پڑے یہ خوف اللہ کو ان سے نہ تھا کیونکہ کسی مخلوق کا خالق پر غالب آجانا محالات سے ہے۔

اٰمَنَّا باللّٰہِ وَعَزَّتِہ وَجَلَالِہٖ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت