فهرس الكتاب

الصفحة 4361 من 6343

تمام آسمانوں اور زمینوں کی حکومت اسی اکیلے اللہ کے قبضے میں ہے وہی رات دن میں تصرف کرتا ہے نہ صرف رات دن بلکہ تمام مخلوقات میں اسی کا تصرف ہے وہی جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے لڑکیاں دونوں ہی ملے جلے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے اولاد بانجھ کردیتا ہے یہ سب کچھ اس کے علم اور قدرت سے ہوتا ہے بے شک وہ بڑے علم والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ مخلوق چاہے کیسے ہی اعلیٰ درجہ پر پہنچ جائے تاہم وہ اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے ساتھ موصوف نہیں ہوسکتی بلکہ یوں کہئے کہ بالمشافہ خطاب کے بھی لائق نہیں اسی لئے کوئی آدمی اس قابل نہیں کہ اللہ اس کے ساتھ بالمشافہ کلام کرے مگر براہ راست بلا واسطہ القاء اور الہام سے یا پس پردہ کہ وہ انسان کسی کلام کو تو اپنے کانوں سے سنے۔ مگر متکلم کو نہ دیکھ سکے یا تیسری صورت یہ ہے کہ فرشتہ کو قاصد بنا کر بھیجے پھر وہ فرشتہ اللہ کے حکم سے جو کچھ اللہ چاہے اس بشر رسول کی طرف وحی پہنچا دے یعنی جبرئیل فرشتہ اللہ کی طرف سے وحی لے کر بحکم اللہ نبیوں تک پہنچاتا رہا ہے عام طریق رسالت یہی ہے۔ بس یہ تین صورتیں ہیں جن سے اللہ کسی انسان کو وحی اور الہام یا القا کرتا ہے۔ خواب میں کسی امر کا کھل جانا پہلی قسم میں داخل ہے۔ اس کے سوا یہ خیال کہ کوئی بشر اللہ سے بالمشافہ ہم کلام ہوسکے محال ہے۔ بے شک وہ اللہ بہت بلند درجہ ہے اس کی کبریائی شان اس سے بے پردہ ہم کلامی سے مانع ہے اور حکیم ہے۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے جسے کوئی شخص پورا پورا نہیں پا سکتا۔ اس لئے جو کچھ تمہیں بتایا جاتا ہے اس پر ایمان لائو اور سنے سنے وہمات میں نہ پڑو۔ اور اگر یہ سوال ہو کہ تیری طرف (اے نبی !) کون سی قسم سے وحی آتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی طرح یعنی اس تقسیم کو ملحوظ رکھ کر ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے روح یعنی روحانی زندگی بخشنے والی کتاب بذریعہ روح الامین جبرئیل کے بھیجی ہے ورنہ اس سے پہلے تو نہ جانتا تھا کتاب کیا ہوتی ہے نہ ایمان کی تفصیل جانتا تھا گو تجھے اللہ پر ایمان تھا اور شرک سے تجھے پیدائشی نفرت تھی مگر اس کی تفصیل کا علم نہ تھا نہ یہ معلوم تھا کہ آسمانی کتاب کس طرح کی ہوتی ہے لیکن ہم نے اس کو تیرے سینے میں نور بنایا جس سے تو دنیا کو نورانی کر رہا ہے اس نور کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں گے ہدایت سے بہرہ یاب کریں گے اور جس کو اس کی بدروش سے چاہیں گے محروم کردیں گے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ تو سب کو سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے یعنی اس اللہ کے قرب کی راہ کی طرف راہ نمائی کرتا ہے آسمانوں اور زمینوں کی سب چیزیں جس کی ملک ہیں سب اسی کا ہے سنو ! لوگو ! اللہ کی مالکیت صرف یہی نہیں کہ وہ مالک ہے اور دنیا کے مالکوں کی طرح اپنی ملکیت سے غافل اور بے خبر ہے نہیں نہیں بلکہ دنیا کے تمام امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں یعنی سب واقعات کا وہی علت اور علت العلل ہے اس کے حکم اور اذن کے بغیر کوئی چیز وجود پذیر یا وجود میں آکر فنا نہیں ہوسکتی۔

اَللّٰھُمَّ یا مُسَبِّبَ الْاَسْبَابِ سَبِّبْ لَنَا وَھَبِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت