فهرس الكتاب

الصفحة 4569 من 6343

ان محسنین نیکوکاروں کی پہچان ایک اور بھی ہے کہ وہ اللہ کے حقوق ادا کرنے پر بس نہیں کرتے بلکہ مخلوق کے جتنے مراتب ہیں سب سے اچھا سلوک کرتے ہیں سب سے بڑا حق ماں باپ کا ہے محسن لوگ ان کے ساتھ تو بہت ہی اچھا سلوک کرتے ہیں کیونکہ ہم (اللہ) نے ہر انسان کو اس کے والدین کے حق میں احسان کرنے کا حکم دیا ہے۔ باپ کے احسان تو بچہ خود دیکھتا ہے کہ کھانے پینے کو وہی دیتا ہے البتہ ماں کے ابتدائی احسانات اس پر مخفی ہیں اس لئے اس کو بتلائے جاتے ہیں کہ اس کی ماں نے اس کو سخت تکلیف میں اٹھایا اور سخت تکلیف میں اس کو جنا۔ اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت کم سے کم تیس ماہ (اڑہائی سال) ہوتے ہیں زیادہ سے زیادہ پونے تین سال۔ یہ تو اس کی ابتدائی حالت کا ذکر ہے جس میں وہ بالکل عاجز وناتواں ہوتا ہے پھر جب وہ اپنی قوت کی عمر کو پہنچتا ہے خاص کر جوانی حیوانی سے گزر کر چالیس سال کی عمر کو تب پہنچ جاتا ہے کیونکہ اس عمر تک خود بھی عموماً صاحب اولاد ہوجاتا ہے اس لئے اسے ماں باپ کی خدمات جو پہلے سنے سنائے معلوم تھیں اب مشاہد ہوگئیں لہذا اگر وہ نیک خیال نیکو کار ہے تو اپنی اولاد کو دیکھ کر کہ میں کس طرح اس کی دل سے پرورش کرتا ہوں اپنے ماں باپ کے احسانات یاد کر کے کہتا ہے اے اللہ مجھ کو توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی۔ یعنی وہ ماں باپ کا ایسا سچا خادم اور قائم مقام بنتا ہے کہ ان کی طرف سے بھی اللہ کے احسانات کا شکریہ ادا کرتا ہے اور اپنی ذات خاص کے لئے یہ بھی کہتا ہے اے اللہ مجھے توفیق دے کہ میں ایسے نیک کام کروں کہ تو ان کو پسند کرے اور وہ اللہ سے یہ بھی دعا مانگتا ہے کہ اے اللہ ! میری اولاد کو بھی صالح بناکہ وہ بھی میری روش پر چلیں تاکہ ہم سب تیرے حضور میں سرخ رو ہوں۔ نیک بخت نیکوکار یہ بھی کہتا ہے اے میرے اللہ میں اپنی تمام ضروریات اور تکلیفات میں تیری طرف جھکا ہوا ہوں اور میں تیرے فرمانبردار بندوں میں سے ہوں۔ غرض یہ ہے کہ نیک بخت نیکو کار آدمی ہمیشہ اپنی اور اپنے متعلقین کی خیر وعافیت کے خواہاں رہتے ہیں ہر انسان کے متعلقین اصول اور فروع میں یعنی ماں باپ اور اولاد نیک خصلت نیکو شعار وہ ہیں جو اپنی اپنے ماں باپ کی اور اپنی اولاد کی بھلائی چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے نیک اعمال ہم قبول کرتے ہیں اور ان کے اخلاص اور حسن نیت کی وجہ سے ان کی برائیوں سے ہم درگزر کریں گے کیونکہ یہ لوگ اہل جنت میں داخل ہیں یہ وعدہ جو ان کو دیا جاتا ہے بالکل سچا ہے اس لئے ضرور پورا ہوگا۔ اور جو نوجوان لڑکا گستاخی میں یہاں تک ترقی کرجاتا ہے کہ اپنے والدین کو جب وہ ان کو وعظ ونصیحت کرتے ہیں حقارت سے ان کو تف کہتا ہے یعنی مقابلہ کرتا ہے اور ان کی نصیحت کے مقابلہ میں کہتا ہے کیا تم مجھے اس سے ڈراتے ہو کہ میں بعد مرنے کے دوبارہ زندہ ہو کر قبر سے نکالا جائوں گا؟ حالانکہ سینکڑوں اشخاص بلکہ کئی ایک قومیں مجھ سے پہلے گزر چکی ہیں وہ تو دوبارہ زندہ نہ ہوئے اور میں زندہ ہو کر اٹھوں گا اور کئے کی سزا جزا پائوں گا یہ تمہارا دیوانہ پن ہے وہ دونوں اس کے ماں باپ شفقت میں اللہ کی دہائی دیتے ہیں اور اس کی ہدایت طلبی میں اللہ سے مدد چاہتے ہیں اور اسے کہتے ہیں تیرا ناس ہو۔ بدمعاشوں کی صحبت میں بیٹھنا چھوڑ دے اللہ پر اور اللہ کے وعدوں پر ایمان لا بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ نالائق گستاخ ماں باپ کی مشفقانہ نصیحت سن کر کہتا ہے جی یہ تو پہلے لوگوں کے افسانے ہیں ان میں اصلیت اور صداقت نام کو نہیں تم کیا کہہ رہے ہو؟ مطلب اس سارے قصے کا یہ ہے کہ بعض اولاد ماں باپ کی پوری تابعدار ہوتی ہے اور بعض نوجوان ایسے بے فرمان ہوتے ہیں کہ ان کی نصیحت کو قبول کرنے کے بجائے ان کی توہین اور ہتک کرتے ہیں اسی لئے انکو سزا بھی ایسی ہی ملتی ہے کہ ان سے پہلے جن اور انسان جو اس قسم کے بدمعاش گذر چکے ہیں ان ہی میں ان پر فرد جرم لگ چکا ہے کیونکہ یہ سارے لوگ اپنی بداعمالی کی وجہ سے خسارے میں تھے ان کی زندگی ان کے مال ان کے اسباب ان کی حکومت سب کے سب ان کے حق میں موجب نقصان تھے اور ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے لئے ان کے کاموں کے مطابق مختلف درجات ہیں جو کچھ کسی نے کیا وہ اس کو ملے گا تاکہ اللہ ان کے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ ان کو دے اور کسی طرح ان پر ظلم نہ ہوگا بلکہ جو کچھ انہوں نے یا کسی نے کیا ہوگا وہی ان کو ملے گا نہ سزا میں زیادتی ہوگی نہ جزا میں کمی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت