فهرس الكتاب

الصفحة 1366 من 6343

اور جب کوئی سورت یا آیت قرآنی نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض منافق ہنسی کرتے ہوئے مسلمانوں سے کہتے ہیں میاں سنا ہے قرآن سے ایمان بڑھتا اور تازہ ہوتا ہے کہو تو آج اس سورۃ نے کس کا ایمان بڑھایا ہے کہ وہ بالشت سے گز کو پہنچ گیا ہو نادان نہیں جانتے کہ جو ایماندار ہیں انہی کا ایمان سورت بڑھاتی ہے یعنی انہی کو توفیق خیر ملتی ہے اور وہی خوشی کرتے ہیں اور جن کے دلوں میں ناپاک باطنی اور دو روئی کی بیماری ہے ان کو خباثت پر خباثت اور بڑھاتی ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ بدذاتیاں کرتے رہتے ہیں اور کفر ہی میں مرتے ہیں غرض یہ کہ قرآن کی مثال بھی بالکل بارش کی طرح ہے

باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست

درباغ لالہ روئد در شورہ بوم و خس

کیا یہ منافق چالباز اللہ تعالیٰ کے حکموں کی تحقیر کرنے والے اتنا بھی نہیں جانتے کہ ہر سال ایک دو دفعہ ان کو تکلیف پہنچ رہتی ہے پھر بھی نہ تو توبہ کرتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں بلکہ بجائے توبہ کے الٹے اکڑتے ہیں اور جب کوئی قرآنی سورت ان کی موجودگی میں اترتی ہے جس میں ان کے بداعمال کا اظہار یا اللہ کی راہ میں خرچنے کا ذکر ہوتا ہے تو ایک دوسرے کی طرف نظر کر کے اشاروں سے کہتے ہیں کہ کوئی تم کو نہیں دیکھتا اٹھو چلو پھر فوراً چل دیتے ہیں ایسے بے پرواہ ہیں گویا کسی حکم کی تعمیل کی ان کو حاجت نہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا ہے کیونکہ یہ لوگ دانستہ اللہ کے احکام کو نہیں سمجھتے اپنی حالت اور آئندہ ضرورت پر فکر نہیں کرتے ان کو کوئی اتنا بھی نہیں سمجھاتا کہ دیکھو تمہارے پاس تم ہی میں سے اللہ کا رسول آیا ہے وہ ایسا شفیق اور مہربان ہے کہ اس پر تمہاری تکلیف شاق گذرتی ہے تمہاری بھلائی کا حریص ہے ہر وقت اس کو یہی فکر ہے کہ تمہارا بھلا ہو اور تم دینی اور دنیاوی ترقی کی معراج پر پہنچو اور ایمانداروں کے حال پر نہایت درجہ شفیق اور مہربان ہے پھر بھی اگر وہ منہ پھیریں تو تو کہہ دیجیو کہ اللہ مجھ کو کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود اور حامی مددگار نہیں اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے یعنی اسی کی حکومت عامہ ہے اور کسی کی نہیں۔ پس

لگائو تو لو اس سے اپنی لگائو

جھکائو تو سر اس کے آگے جھکائو

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت