فهرس الكتاب

الصفحة 5493 من 6343

حضرت نوح اپنی تبلیغ میں برسوں نہیں صدیوں تک مشغول رہے قوم کی طرف سے ایک ہی جواب ملتا رہا کہ ہم تیری نہ مانیں گے جب یہاں تک نوبت پہنچی تو نوح نے کہا اے میرے اللہ میں نے اپنی قوم کو رات دن دین کی طرف بلایا اور خوب تبلیغ کی مگر میری دعوت پر یہ لوگ فرار ہی کرتے رہے اور میں نے جب ان کو بلایا کہ اپنی بدکاری سے توبہ کریں تاکہ تو ان کو بخش دے تو انہوں نے مارے تکبر اور نخوت کے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں تاکہ میری بات نہ سنیں اور اپنے کپڑے مونہوں پر اوڑھ لئے تاکہ میری شکل بھی نہ دیکھ سکیں سننا تو کجا اور اپنے کفر شرک پر اڑے رہے اور تکبر ہی کرتے رہے پھر میں ان کو بلند آواز سے بلایا تو بھی متوجہ نہ ہوئے پھر میں نے ان کو کھلا اور مخفی بلایا یعنی ہر ایک کو جلوۃ اور خلوۃ میں توحید کی دعوت دی پھر سمجھاتے ہوئے میں نے یہ بھی کہا کہ بداعمالی سے توبہ کر کے اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے تم پر جو بارش نہ ہونے سے قحط ہو رہا ہے تمہارے استغفار کرنے سے اللہ تم پر موسلادہار مینہ برسائے گا جس سے سارا قحط دور ہوجائے گا اور مال مویشی اور اولاد ذکور کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے پانی کے چشمے اور دریا جاری کر دے گا جن سے تم اپنے کھیت سیراب کرو گے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم دل سے اللہ کی عزت نہیں کرتے بھلا یہ بھی کوئی عزت ہے جو تم کرتے ہو کہ اس کے سوا دوسروں سے حاجات مانگتے ہو حالانکہ اسی نے تم سب کو مختلف حالات میں پیدا کیا ہے دیکھو پہلے تم منی کے قطرے تھے پھر منجمد خون بنے۔ پھر لوتھڑے بنے پھر جسم بے روح بنے پھر تم میں روح پھونکی گئی پھر بصورت ایک بے ہوش بچے کے تم کو باہر نکالا پھر تم کو عقل سمجھ عطا کی کیا تم نے اپنی عقل سے کام لیتے ہوئے اس امر پر کبھی غور کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان تہہ بتہہ کیسے پیدا کئے اور چاند کو ان میں روشن چیز بنایا اور سورج کو روشن چراغ پیدا کیا ایسا چراغ دنیا میں کوئی ہوگا؟ جس کی ضخامت ساری زمین سے جس میں سمندر اور پہاڑ بھی داخل ہیں ایک سو چوالیس درجے زیادہ ہے یہ سب اللہ کی قدرت کے کرشمے ہیں اور سنو ! اللہ تعالیٰ نے تم سب بنی آدم کے باپ آدم (علیہ السلام) کو ابتدا پیدائش عالم میں زمین کی مٹی سے پیدا کیا پھر تم سب کو اسی میں لوٹا دیتا ہے پھر تم کو بروز قیامت زندہ کر کے اس زمین سے نکالے گا اور سنو اللہ نے تمہارے لئے زمین کو بنایا تاکہ حسب ضرورت مکان بنائو زراعت کرو۔ کنویں کھودو سیروسیاحت کرنے کو اس میں کھلے رستوں پر چلو زمین کی شکل ہیئت ہی بتا رہی ہے کہ تمہاری پائمال ہے یہ سب تقریر سن کر بھی وہ لوگ حضرت نوح کی تعلیم سے انکار پر مصر رہے اس لئے نوح نے اللہ کو مخاطب کر کے کہا اے میرے پروردگار تو سب کچھ جانتا ہے کہ انہوں نے بڑی سختی سے میری بے فرمانی کی ہے اور جن مالداروں کو ان کے اموال اور اولاد نے بوجہ ان کے تکبر کے سوائے ٹوٹے کے کچھ فائدہ نہیں دیا ان نالائقوں اور متکبروں کے پیرو ہوگئے ہیں وہ جدھر ان کو چلاتے ہیں یہ چلتے ہیں اور یہ بات بھی سرکار سے مخفی نہیں ہے کہ انہوں نے میری ایذا رسانی میں بڑے بڑے مکر اور فریب کئے ہیں سرکار میں اگر الٰہی حفاظت میں نہ ہوتا تو مدت سے یہ لوگ مجھے ختم کئے ہوتے اس بندہ درگاہ کی ایک اور گزارش معروض ہے کہ میری تعلیم توحید جو میں نے بطور سرکار پیغام کے پہنچائی ہے اس کے جواب میں ان بڑے مالدار کنبہ دار لوگوں نے ماتحتوں کو کہا کہ خبردار اپنے مصنوعی معبودوں کو مت چھوڑنا یہاں تک کہ پختگی کی غرض سے اپنے مصنوعی معبودوں کے نام لے لے کر تاکید کر رکھی ہے اور کہا ہے کہ نہ بڑے بت ود کو چھوڑنا نہ سواع کو نہ یغوث کو نہ یعوق کو اور نہ نسر کو چھوڑنا۔ سرکار ! انہوں نے میری سخت تکذیب کی ہے اور بہت سے مخلوق کو گمراہ کیا ہے اور کر رہے ہیں اس لئے اے میرے پروردگار ان ظالموں نے ہدایت کے رستے جیسے خود بند کر لئے ہیں تو بھی بطور سزا کے ان ظالموں کو ضلالت ہی میں بڑھاتے جا تاکہ اپنی گمراہی اور بدکاری کے حسب حال سزا پائیں۔ پس نوح کی اس مظلومانہ دعا کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ اپنے گناہوں اور شرارتوں کی وجہ سے اسی زندگی میں بارش کے پانی میں غرق کئے گئے پھر بعد غرق جہنم کی آگ میں داخل کئے گئے پھر انہوں نے اللہ سے ورے اپنے مصنوعی معبودوں میں سے کوئی مددگار نہ پایا بلکہ سب کے سب ان کے دشمن ہوگئے اور یہ بھی نوح نے دعا میں کہا اے میرے پروردگار ان کافروں کی شرارت حد سے بڑھ گئی ہے لہذا اب تو ان میں سے کسی آباد گھر کو نہ چھوڑ سب کو تباہ کر دے مجھے علم غیب حاصل تو نہیں مگر میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں اگر تو ان کو اس حالت میں زندہ چھوڑ رکھے گا تو مثل سابق تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور جو بھی بچہ جنیں گے اپنے اثر نطفہ اور تاثیر صحبت سے بدکار اور کافر ہی جنیں گے پس جس طرح سمجھدار باغبان پھل دار درختوں کو نقصان پہنچانے والے پیڑوں کو کاٹ دیتا ہے حضور بھی ایسا ہی کریں اس کے ساتھ نوح نے یہ دعا بھی کی اے میرے پروردگار ! مجھے اور میرے ماں باپ کو بخش دے اور پھر اس شخص کو بھی بخش دے جو ایماندار ہو کر میرے گھر میں یا حلقہ اثر میں داخل ہو اور ان کے سوا دنیا کے موجودہ اور آئندہ سب مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بخش دے اور ان ظالموں پر تباہی ڈال حضرت نوح کی یہ دعا قریبا ایک ہزار سال کے تجربہ پر مبنی تھی جو ممدوح نے ان میں گذارے تھے یہ نہیں کہ جلدی میں گھبرا گئے تھے سچ ہے۔

دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت