فهرس الكتاب

الصفحة 2816 من 6343

زنا کاری بری عادت ہے کہ نیک خصلت سادہ مزاج آدمی کو زنا کار کی صحبت سے پرہیز کرنا چاہئے خصوصا پاکدامن نیک لڑکی کو اس کے حبالہ عقد میں نہیں دینا چاہئے اس لئے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ زانی جب تک زنا سے تائب نہیں ہوتا صرف زانیہ یا بےدین مشرکہ عورت ہی سے نکاح کرے تاکہ کوئی بھلی عورت اس کی صحبت میں خراب نہ ہو اسی طرح عورت زانیہ بحالت اجرا زنا اگر نکاح کرنا چاہے تو اس سے کوئی بھلا مرد نکاح نہ کرے بلکہ زانی یا بدکار مشرک ہی اس سے نکاح کرے تاکہ ؎ کند ہم جنس باہم جنس پرواز صادق آئے کوئی شریف مرد زانیہ عورت کے اثر صحبت سے اور کوئی عفیفہ عورت بدکار زانی کے ماتحت خراب نہ ہو اس لئے کامل مسلمانوں پر یہ نکاح حرام ہے تاکہ وہ فاحشات سے باوجود فحش جاری رکھنے کے زن و شوئی کا تعلق کریں ہاں اگر کوئی فریق ان میں سے توبہ کرے اور دل سے احکام اللہ کریم کے ماتحت رہنے کا وعدہ کرے تو بے شک معاف ہوگا اور اس حکم کے ذیل میں نہ آئے گا کیونکہ

باز آ باز آ ہر آنچہ ہستی باز آ

گر کافر دگبرد بت پرستی باز آ

ایں در گئہ مادرگئہ نومیدی نیست

صدبار اگر توبہ شکستی باز آ

چونکہ زنا کاری اللہ کے ہاں سخت ناپسند اور معیوب ہے اس لئے حکم دیتا ہے کہ جو کوئی پاک دامن عورتوں کو یا پاک صاف مردوں کو زنا کی جھوٹی تہمت لگائیں یعنی پولیس میں رپورٹ کریں کہ فلاں شخص نے زنا کیا ہے یا عام طور پر کسی مجلس میں مشہور کریں کہ فلاں شخص نے ایسا کام کیا ہے جس سے اس کی ہتک متصور ہو پھر اس دعویٰ پر چار گواہ نہ لائیں تو ان مفسدوں کو اسی اسی درے (بید) رسید کرو اور آئندہ کو کبھی بھی کسی معاملہ میں ان کی شہادت قبول نہ کرنا کیونکہ یہ لوگ بدکار ہیں جو پاک دامنوں کو ایسے فعل شنیع کی تہمت لگاتے ہیں ان کا بھی کوئی اعتبار ہے ہرگز اس لائق نہیں کہ کسی معاملہ میں بھی ان کا اعتبار کیا جائے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اس لئے جو لوگ اس کے حضور توبہ کرتے ہیں خواہ وہ کیسے ہی بدکار ہوں فورا ان پر رحمت نازل ہوتی ہے اس لئے یہاں بھی وہی قانون ہے کہ جو لوگ اس کے بعد کہ انہوں نے ناحق پا کدامنوں پر اتہام لگائے توبہ کریں اور نیکوکاری اختیار کریں تو ایسے لوگوں پر سے یہ الزام اٹھایا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے پس ان کی شہادت اب قبول ہوگی کیونکہ قرآن و ہدیث اس پر متفق ہیں کہ التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا نہ کرنیوالا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت