فهرس الكتاب

الصفحة 5210 من 6343

تم ان سے دوستانہ کرتے ہو اور ان کا یہ حال ہے کہ اگر وہ تم پر قابو پائیں تو تمہارا سر کچلنے کو تمہارے اصلی دشمن ہوجائیں اور تکلیف دینے کو تمہاری طرف اپنے ہاتھ اور زبان دراز کریں جس سے مقصد ان کا یہ ہے کہ تم بحیثیت مسلمان ہونے کے ہٹ جائو اس لئے تم کو کمزور کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم اسلام کو جو ان کی نگاہ میں کانٹا سا کھٹکتا ہے چھوڑ کر کافر ہوجائو کافر ہونے کی کئی وجہ ہوتی ہیں ایک یہ کہ مسلمان کے دل میں اسلام کے حق میں شبہات پیدا ہوں اس کا علاج تو یہ ہے کہ کسی سمجھدار سے شبہات دور کرائے دوسری وجہ یہ ہے کہ کفار رشتہ داروں کا لحاظ کفر کی طرف کھینچے

)ہندوستان میں جب سے اسلام آیا ہے غیر مسلموں کو کانٹا چبھتا تھا مگر آج کل یہ کانٹا خصوصیت سے تیز ہوگیا ہے اسی لئے اس کے نکالنے کو ہندو اقوام نے باوجود اپنے اندر شدید اختلاف رکھنے کے کہیں ہندو سنگھٹن بنائی ہے یعنی ہندوئوں کا اجتماع اور کہیں ہندو مہاسبھا بنائی جاتی ہے ان سب سے بڑ کر شدھی سبھا ہے۔ جس کا یہ کام ہے جو اس آیت میں کفار مخالفین کا بتایا گیا ہے یعنی مسلمانوں کو کافر بنانا پس مسلمانوں کو ہوشیار رہنا اور سمجھ رکھنا چاہیے کہ ہنود کا یہ فعل وہی ہے جو کفار عرب زمانہ رسالت میں کرتے تھے پھر جو ان کا انجام ہوا وہی ان کا ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ منہ (

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت