فهرس الكتاب

الصفحة 5853 من 6343

افسوس ہے کہ دنیا میں ایسے انسان بھی ہیں جو اس نعمت قرآن کی قدر نہیں کرتے ایسے انسان کو اللہ کی مار کیسا ناشکرا ہے جو اللہ کی مہربانی کی قدر نہیں کرتا کمبخت یہ بھی نہیں دیکھتا کہ اللہ نے اس کو کس چیز سے پیدا کیا وہ اگر بھولا ہو تو ہم ہی بتاتے ہیں منی کی بوند سے پیدا کیا دیکھو تو اس اللہ نے اس کو اندر ہی اندر بنایا پھر اس کا اندازہ باندھ دیا اس کے اعضاء کا اس کے قد کا اس کی عمر کا اس کی خوراک کا اس کی زندگی اور موت کا غرض اس کی سب چیزونکا اندازہ اور وقت مقرر کر رکھا ہے یہ سب کام اس کے یا ہر کرانے سے پہلے ہی کردیتا ہے پھر اس کے لئے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا پھر وہ دنیا میں زندہ رہتا ہے جب تک اس کی زندگی مقدر ہوتی ہے پھر جب ختم ہوتی ہے تو اس کو مار کر قبر میں داخل کردیتا ہے یا جہاں کوئی مرتا ہے وہاں ہی اس کو نظروں سے گم کردیا جاتا ہے جل کر راکھ کی صورت ہوجائے دریا میں مچھلیوں کی غذا کی شکل میں غرض ہر طرح پر وجود سے فنا کی طرف چلا جاتا ہے پھر جب اللہ چاہے گا اس کو جزا وسزا کے لئے مکرر زندہ کر کے اٹھا لے گا دیکھو اتنا سن سنا کر اور قدرت کے اتنے واقعات دیکھ کر بھی انسان نے اپنا فرض ادا نہیں کیا کمبخت ایسا اکڑا پھرتا ہے کہ الٰہی احکام سنکر پرواہ نہیں کرتا بھلا گذشتہ واقعات کی نسبت تو یہ کہہ سکتا ہے گو اس کا کہنا یہ لغو ہے کہ میں نہیں جانتا مجھے اللہ نے مٹی سے پیدا کیا اور کب کیا مگر حالات حاضرہ کی نسبت کیا کہہ سکتا ہے پس ایسا انسان اپنے کھانے کی طرف بغور نظر کرے یہ گول مول روٹی یا چاولوں کی رکابی کہاں سے آئی وہ کیا بتائے گا ہم (اللہ) ہی بتاتے ہیں کہ زمیندار جب دانہ زمین میں ڈال چکا اور اس کا کام ختم ہوگیا تو ہم (اللہ) نے اوپر سے مینہ کا پانی ڈالا پھر اس کے ساتھ زمین کو پھاڑا پھر اس میں وہ دانے پیدا کئے جو یہ ناشکر انسان اس وقت کھا رہا ہے اور اسی پانی کے ساتھ ہم نے انگور اور ہر قسم کی سبزیاں انسانوں اور حیوانوں کے کھانے کے لائق اور زیتوں کا درخت جس سے تیل بھی نکلتا ہے اور کھجوریں اور گھنے گھنے باغ اور ہر قسم کے میوہ جات اور جانوروں کے لئے چارہ پیدا کیا یہ کیوں کیا تمہارے گزارے کے لئے اور تمہارے مویشیوں کے گذارے کے لئے اتنے احسانات اور انعامات پا کر بھی یہ مغرور انسان اللہ کی طرف نہیں جھکتا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت