فهرس الكتاب

الصفحة 5227 من 6343

یہ حکم کوئی تم ہی سے مخصوص نہیں بلکہ تم سے پہلی امتوں کو بھی یہ حکم ہوتا رہا جسے انہوں نے عمل کر کے ثمرہ پایا اور جنہوں نے عمل نہ کیا نقصان اٹھایا کیا تمہیں معلوم نہیں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل کی مخالفت پر تکلیف اور ایذا اٹھائی تو ان کو کہا تھا اے میرے قومی بھائیو ! کیوں مخالفت کر کے مجھے تکلیف دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں رسالت کی تصدیق کے بعد تعمیل فرمانی چاہیے نہ کہ عصیان پھر جب وہ ٹیڑھے ہی ہوتے گئے اور کسی طرح اطاعت پر نہ آئے تو اللہ نے ان بے فرمانوں کے دلوں کو ٹڑے ھا کردیا بس وہ ہدایت سے دور جا پڑے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قانون ہے کہ وہ بدکار لوگوں کو جو بدکاری پر مصر رہیں توفیق ہدایت نہیں دیا کرتا

بنی اسرائیل بڑے گستاخ اور بے ادب تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے اور بیہودہ الزام لگاتے یہاں تک جسمانی عیوب بھی آپ کی طرف نسبت کرتے ان کی طرف اشارہ ہے۔ منہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت