فهرس الكتاب

الصفحة 5598 من 6343

جو اس میں ڈالے ہوئے مجرموں کی نگرانی کرتے ہیں فرشتوں کا نام سن کر تم حیران نہ ہو کیونکہ ہم نے جہنم کے محافظ فرشتے ہی بنائے ہیں اور کسی کا یہ کام نہیں اور ہم نے ان کی گنتی اتنی تھوڑی مقرر کی ہے اور بتائی بھی تھوڑی ہے تاکہ منکروں کے لئے پریشانی ہو وہ اپنے زعم میں اس مقدار کو اتنا کم جانتے ہیں کہ ان پر ہنستے ہیں اور اہل کتاب اس بات پر یقین کریں کیونکہ وہ فرشتوں کی قوت کو جانتے ہیں اور ایماندار مسلمان لوگ ایمان میں ترقی کریں اور اہل کتاب

اور مسلمان کسی قسم کا شک نہ کریں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ فرشتوں میں قوت روحانی ہے اور اس مقدار بتانے کا یہ بھی نتیجہ ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں باوجود ادعائے ایمان کے ضعف اور اغراض دنیا ویہ کی بیماری ہے اور جو صریح کافر اور منکر اسلام ہیں وہ کہیں گے کہ یہ بات بتانے میں اللہ کی کیا غرض ہے کہ اتنے فرشتے ہوں گے ان کے نزدیک یہ تعداد کوئی کہاوت ہے حقیقت نہیں۔ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی بات سمجھنے سے گمراہ کردیتا ہے ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ کلام الٰہی کو صحیح معنی میں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے نہ سمجھنا چاہتے ہیں اور اپنے فضل وکرم سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اصلی بات یہ ہے کہ تیرے رب کی فوج اسباب عذاب کو خود ہی جانتا ہے مجرم لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اکڑیں گے یا ہم بھاگ جائیں گے ان کو خبر نہیں کہ ان کے اجسام کی ہڈی بوٹی بلکہ بال بال بھی اللہ کی فوج ہے وہ جس بال کو جس ہڈی کو حکم دے وہی عذاب قائم کر دے۔ پھر یہ دوزخ کے فرشتوں کی تعداد سن کر کیوں مخول کرتے ہیں وہ تو ایک انتظامی صورت ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہر چیز اس کی سپاہی ہے اور وہ جہنم یعنی اس کا ذکر اذکار انسانوں کے لئے صرف نصیحت ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت