فهرس الكتاب

الصفحة 2607 من 6343

اور زبور میں جو حضرت دائود پر کتاب اتری تھی بعد ضروری نصیحت کے ہم نے لکھ دیا تھا کہ جنت کی زمین کے وارث میرے پرہیز گار بندے ہوں گے اب بھی اس کلام پاک قرآن شریف میں بلا شبہ عبادت کرنے والوں کے لئے تبلیغ ہے جو اللہ کے بندے ہو کر رہتے ہیں وہ عوض پائیں گے اسی لئے تو ہم نے تجھ کو اے رسول (علیہ السلام) تمام لوگوں کو ہدایت اور رحمت کرنے کے لئے بھیجا ہے پس تو ان سے کہہ کہ میری تعلیم کا خلاصہ دو لفظی ہے میری طرف بس یہی الہام ہوتا ہے کہ تم سب لوگوں کا معبود ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے تو کیا تم اس کے تابع فرمان نہ ہو گے پھر یہ سن کر اگر وہ اس سے روگردانی کریں اور تیری نہ سنیں تو تو ان کو کہدے کہ تم سب کو یکساں طور پر بلا رو رعائت ڈرا چکا ہوں اور سب کو بے لگی لپٹی سنا چکا ہوں لیکن اگر تم یہ پوچھو کہ شرک کفر دیگر بد اطواریوں پر آنے والی آفت کب آئے گی تو اس کی مجھے بھی خبر نہیں کہ جس عذاب کا تم کو وعدہ دیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا بعید کچھ شک نہیں کہ وہ اللہ بلند آواز کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی نہیں جو اس جاننے میں اس کا شریک ہوسکے مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ مہلت اور چند روزہ آسانی تمہارے حق میں کس حکمت پر مبنی ہے شاید کچھ ابتلاہے اور ایک خاص وقت تک یعنی تمہاری زندگی کی انتہا تک تم کو فائدہ پہنچانا منظور الٰہی ہے یہ کہہ کر رسول نے دعا میں کہا کہ اے میرے پروردگار ! تو حق فیصلہ فرما اور یہ بھی کہہ کہ ہمارا پروردگار بڑا رحم کرنے والا ہے اور تمہاری فضول باتوں پر جو تم کہتے ہو اسی سے مدد چاہی جاتی ہے پس اسی کی مدد سے بیڑاپار ہے

جو کچھ ہوا ہوا کرم سے تیرے

جو ہوگا وہ تیرے ہی کرم سے ہوگا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت