فهرس الكتاب

الصفحة 5257 من 6343

یہی کمبخت لوگ تھے جو جنگ کے موقع پر کہتے تھے اگر اب کی دفعہ ہم شہر مدینہ میں گئے تو سب سے پہلے یہ کام کریں گے کہ ہم معزز لوگ ان ذلیل لوگوں مہاجرین کو شہر سے نکال دیں گے تاکہ یہ میلے لوگ ہماری نظروں میں نہ آئیں نہ باعث تکلیف ہوں یہ کمبخت عزت اور عزت داری کا اصول بھی نہیں سمجھتے اصل عزت وہ ہے جو زوال پذیر نہ ہو مال' سرکاری نوکری' تجارت وغیرہ یہ سب زوال پذیر ہیں آج کوئی شخص مالدار ہے تو کل نہیں۔ آج کوئی سرکاری عہدہ پر ہے تو کل معزول ہے اس لئے ان لوگوں کی عزت اصلی نہیں اصل عزت اللہ کی ہے جو بلا ریب اپنی ذات میں عزت کا مستحق ہے اور عزت رسول کی ہے جو دائمی ہے اور عزت ایمانداروں صالحین کی ہے جو محض ایمان کی وجہ سے معزز ہیں چاہے امیر ہیں یا غریب اس میں کچھ فرق نہیں ان کے علاوہ علماء فقرا عزت کے مستحق ہیں وہ سب مومنین میں داخل ہیں مگر منافق لوگ جانتے نہیں کہ عزت کاہ شے ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت