فهرس الكتاب

الصفحة 5566 من 6343

تیرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تو کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی نصف کے لگ بھگ اور کبھی ثلث شب کے قریب عبادت میں لگا رہتا ہے اور تیرے ساتھیوں میں سے مومنین کی ایک جماعت بھی عبادت میں مشغول رہتی ہے تیرا اور ان کا اخلاص نمایاں ہے کیونکہ رات کے وقت وہی شخص عبادت کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دلی تعلق رکھتا ہو اور اللہ کو رات اور دن کا اندازہ خوب معلوم ہے اسی علم کی بنا پر وہ بتاتا ہے کہ تم ایسا کرتے ہو اسی علم کلی سے اسے معلوم ہے کہ تم لوگ ہرگز اس کو نباہ نہیں سکو گے تو اس نے تم پر نظر عنائت کی ہے پس جس قدر قرآن پڑھنا تمہیں آسان ہو پڑھا کرو یعنی بوقت شب نماز تہجد جتنی آسانی سے پڑھ سکو پڑھا کرو اور بے حد تکلیف نہ اٹھایا کرو اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں بعض لوگ بیمار ہوں گے اور کئی ایک ملک میں سفر کریں گے جس میں وہ بذریعہ تجارت اللہ کا فضل تلاش کریں گے جو بالکل جائز بلکہ مستحسن فعل ہے اور کئی لوگ ایسے ہوں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے پس یہ وجوہات ہیں جن سے تم کو نرم حکم دیا جاتا ہے کہ جتنا کچھ قرآن پڑھنا تم کو آسان ہو اتنا پڑھ لیا کرو' بہت زیادہ بوجھ اپنے نفس پر نہ ڈالو اور مفروضہ نماز پڑھتے رہو اور مال کا فریضہ زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور دے سکو تو اللہ کے بندوں میں سے حاجتمندوں کو بلا سود قرض حسنہ دیا کرو اور ان مذکورہ مواقع کے علاوہ بھی نیک کام میں خرچ کیا کرو کیونکہ جو بھی تم لوگ اپنے لئے نیک کام اپنے اعمالنامہ میں لکھوا کر آگے بھیجو گے اس کو اللہ کے نزدیک بہتر اور اچھے اجر کی صورت میں پائو گے اور اس کے پانے سے تم لوگ خوش ہوگے اس بدنی اور مالی عبادت کے علاوہ ایک وسیع الذیل کام سنو ! جو کسی وقت بھی ختم نہ ہو یا ختم ہونے پائے وہ یہ کہ اللہ سے بخشش مانگا کرو بے شک اللہ گناہوں کا بخشنے والا مہربان ہے اس کی رحمت سے کسی حال میں ناامید نہ ہونا چاہیے۔ یَا غَفُوْرُ یَا رَحِیْمُ نَسْتَغْفِرُکَ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت