فهرس الكتاب

الصفحة 6227 من 6343

اہل کتاب میں سے کافر لوگ یہودو نصاری اور عرب کے مشرکین اپنی رسومات اور دینی بدعات سے کبھی ہٹنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی بات بتانے والا رسول اللہ کی طرف سے نہ آئے جو پاک الہامی نوشتے پڑھ کر ان کو سنائے جن میں محکم مسائل دینیہ درج ہوں یعنی اس زمانہ کے اہل کتاب اور مشرکین ایسے شدید الکفر تھے کہ کسی واعظ کے وعظ سے ان کو اثر نہ ہوتا بلکہ ضرورت تھی کہ بڑی قوت والا رسول ان کے پاس آئے اور اپنی قوت قدسیہ سے ان کو پاک کرے چنانچہ بہتوں کو اس رسول سے فائدہ ہوا اور جن کو پہلے الہامی کتاب ملی تھی یعنی اہل کتاب یہودو نصاری یہ سب کے سب صاحب البینہ نبی کے انتظار میں متفق تھے مگر جب وہ نبی آیا اور ان کو اس کی صداقت کا علم بھی حاصل ہوگیا تو وہ بعد آجانے اس بینہ والے نبی کے تسلیم اور عدم تسلیم میں مختلف ہوگئے بعض تو اپنے علم پر قائم رہ کر ایمان لے آئے اور بعض منکر ہوگئے حالانکہ اس بینہ والے رسول کی معرفت ان کو جو حکم ہوا ہے وہ شریعت انبیاء کے خلاف نہیں بلکہ ان کو یہی حکم ہوا ہے کہ شرک کفر چھوڑ کر یک رخے ہو کر اللہ ہی کی مخلصانہ عبادت کریں جس میں کسی قسم کا شرک یا نمائش نہ ہو اور فرائض نماز باقاعدہ پڑھیں اور وافر مال کی زکوٰۃ ادا کیا کریں ہمارے نزدیک دین قیم محکم طریق یہی ہے باوجود اس صاف تعلیم کے یہ لوگ انکاری ہو رہے ہیں تو سن رکھیں جو لوگ اہل کتاب میں سے اور عرب کے دیگر مشرکوں میں سے اسلام کے منکر ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ وہ لوگ اللہ کے نزدیک سب لوگوں میں سے بدترین لوگ ہیں برعکس ان کے جو لوگ ایمان لا کر نیک عمل کرتے ہیں وہی لوگ سب لوگوں میں سے اچھے ہیں کیونکہ زندگی کا مقصد انہوں ہی نے سمجھ کر پورا پا لیا ہے یعنی اللہ کے ہو رہے اور اسی کی لگن میں دنیا سے رخصت ہوئے اس لئے ان کا بدلہ ان کے پروردگار کے پاس ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی بغیر اخراج کے ہمیشہ ان باغوں میں رہیں گے دائمی عیش و آرام کے علاوہ بڑی نعمت ان کو یہ ملے گی کہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یعنی مالک اور غلام میں کسی قسم کی سوء مزاجی کا اندیشہ نہ رہے گا یہ انعام واکرام ان لوگوں کو ملے گا جو اپنے رب کے عذاب سے دنیا میں ڈرتے رہے ہوں گے۔

اللھم اجعلنا منھم

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت