فهرس الكتاب

الصفحة 4565 من 6343

دیکھو تو بھلا یہ بھی کوئی عذر ہے جو منکر لوگ ماننے والوں کو کہتے ہیں اگر یہ قرآن بہتر ہوتا یعنی اس میں کچھ خوبی ہوتی تو یہ غریب مسلمان لوگ ہم سے پہلے اسے قبول نہ کرتے کیونکہ ہمیشہ سے یہی دستور چلا آیا ہے کہ ہر کار خیر میں ہم امرا کا حصہ مقدم ہوتا ہے۔ پھر یہاں یہ قاعدہ کیوں ٹوٹتا۔ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ دنیاوی امور میں ان کی سبقت کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دینی کاموں میں بھی ان کا حصہ مقدم ہے ہرگز نہیں وہ سڑک دوسری ہے یہ لائن جدا ہے مگر چونکہ ان لوگوں نے اس قرآن سے ہدایت نہیں پائی ہے اس لئے کہہ دیں گے کہ یہ دعوی نبوت بہت پرانا جھوٹ چلا آرہا ہے۔ اسی طرح اس مدعی سے پہلے بھی مدعی گزر چکے ہیں ان کا بھی یہی طریق تھا کہ دعوی نبوت کرتے پھر کچھ کرشمے بھی دکھاتے لوگوں سے وعدے بھی کرتے۔ یہ بھی ایسا ہی کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے حالانکہ اس (قرآن) سے پہلے موسیٰ کی کتاب توریت اپنے زمانہ میں امام اور رحمت تھی اور یہ کتاب قران مجید عربی زبان میں اس سابقہ کتاب کے مضامین کی مصدق ہے تاکہ ان لوگوں کو سمجھائے اور ڈرائے جو بوجہ بدکار کے ظالم ہیں اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہے جو تعمیل احکام کرنے سے خوش خبری کے مستحق ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت