فهرس الكتاب

الصفحة 5538 من 6343

ایسا نہ ہو کہ تیری امت ہی حسن عقیدہ سے تجھ ہی کو نفع نقصان رساں جان کر شرک میں مبتلا ہوجائے اس لئے تو ان کو کہہ کہ ہمیشہ کے لئے یہ خیال دل سے نکال دو کیونکہ یقینا میں تمہارے لئے کسی قسم کے ضرر یا فائدہ پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا خبردار اب یا آئندہ کو مجھ سے یہ امید نہ رکھنا کہ میں تم کو اولاد دے سکتا ہوں یا اور کسی قسم کا نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہوں

یہ آئت اصل اصول توحید ہے اس لئے اس جگہ ایک مثال سے مسئلہ توحید سمجھانے کی ضرورت ہے جسکی صورت یہ ہے ہندوستان میں حکومت کا سلسلہ یہ ہے کہ سب سے اونچا حاکم وایسر اے ہے جو بادشاہ کا نائب ہے اس کے نیچے صوبوں کے گورنر ہیں۔ گورنروں کے نیچے کمشنر ہیں کمشنروں کے نیچے حکام ضلع ہیں حکام ضلع کے ماتحت تحصیلدار ہیں اس سارے سلسلہ میں قابل غور بات یہ ہے کہ جس کام کا اختیار وایسراے کو نہو اسکے ماتحتوں میں اسکا اختیار سمجھنا سخت نادانی بلکہ وایسراے کی توہین ہے۔

ہم اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب مخلوق میں برتر اور برگزیدہ ہیں باقی اصحاب کبار اور اولیاکرام سب آپ کے ماتحت ہیں۔ پس اصول مذکورہ کے موافق ہمیں سوچنا چاہئے کہ جس صورت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ اپنی بابت اعلان کردیں کہ مجھ میں مخلوق کو نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں تو آپکے ماتحتوں کو کب ہوگی پھر جو لوگ اولیاء اللہ کے حق میں گمان کرتے ہیں کہ وہ نفع رسانی یا دفع ضرر کی قوت رکھتے ہیں وہ دراصل غلط خیال ہی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ ان کے اس خیال سے توہین انبیاء لازم آتی ہے کیونکہ جب آنحضرت جیسے اولو العزم نبی کو اختیار نہیں تو ماتحتوں کو کیا ہوگا پس کسی ولی اللہ کو مخاطب کر کے یہ کہنا

امداد کن امداد کن

از بندوں غم آزاد کن

دردین و دنیا شاد کن

یا شیخ عبدالقادر

کسی طرح صحیح نہیں۔ ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ جو اختیار اللہ نے اپنے رسول برتر کو نہیں دیا وہ کسی ولی کو کیا ہوگا۔ اللہ اعلم۔ منہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت