فهرس الكتاب

الصفحة 2949 من 6343

وہ کیوں نہ اپنے بندوں کے گناہ معاف کرے جب کہ دنیا میں کمینہ سے کمینہ اور رذیل سے رذیل لوگ بھی اپنے نوکروں اور ماتحتوں کو توبہ کرنے پر معاف کردیتے ہیں اللہ تو چشمہ رحمت ہے مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ توبہ صرف زبان سے نہ ہو بلکہ توبہ کے بعد اعمال صالح بھی ہوں اس لئے کہ یہ قاعدہ کلیہ ہے جو کوئی توبہ کر کے نیک عمل کرتے ہیں حقیقت میں وہی اللہ کی طرف جھکتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے لئے یہ حکم ہے التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ یعنی گناہوں سے توبہ کرنیوالے ایسے ہیں گویا انہوں نے گناہ

کئے ہی نہیں کہ وہ جن کا یہ قول ہو کہ

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کرلی

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

ایسے ہی لوگوں کے حق میں ہے

ترا توبہ زیں تو بہ ادنی ترست

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت