فهرس الكتاب

الصفحة 5284 من 6343

دیکھو تم کو پہلے بتایا گیا ہے کہ جن عورتوں کو تم طلاق دے کر چھوڑ دو ان کی عدت کا وقت تین دفعہ حیض سے پاک ہونا ہے مگر جن کو حیض نہ آئے ان کا حکم سنو ! جو تمہاری قوم کی عورتیں بوجہ ضعیفی یا بسبب بیماری کے حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہیں اور وہ جن کو ابھی حیض آیا ہی نہیں قبل حیض ہی ان کی شادی ہوگئی ہو اور طلاق کی نوبت آجائے ان کو اگر عدت طلاق گزارنے کا موقع آئے تو ان کی تین مہینے کی میعاد ہے وہ قمری تین ماہ عدت گزار کر نکاح ثانی کرلیں اور اگر یہ عورتیں یا کوئی بھی منکوحہ بالغہ ہو یا نابالغہ خاوند سے ملی نہیں اور قبل ملاپ ہی ان کی جدائی ہوگئی تو ان پر کوئی عدت نیں۔ نہ تین حیض نہ تین ماہ نہ تین یوم۔ اور حمل کی حالت میں چونکہ حیض نہیں آتا نہ وہ بے امید ہی ہیں اس لئے اس کا حکم جدا ہے وہ بھی سنو جو حمل والی عورتیں ہیں ان کو اگر عدت طلاق یا عدت وفات لازم ہو تو ان کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے جب وہ حمل وضع کرچکیں تو فورا نکاح کرسکتی ہیں چاہے مدت نفاس ہی میں کرلیں ہاں عدت کا حکم اور اس میں انتظار بے شک اس مقولہ کا مصداق ہے الانتظار اشد من الموت اور اس میں غلطی ہوجانے کا احتمال ہے مگر جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے اس کے مشکل سے مشکل کام میں بھی آسانی پیدا کردیا کرتا ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت