ان مخالفوں میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک تابع ہیں دوسرے متبوع یعنی رئیس لوگ یہ رئیس لوگ ان اتباع کو جدھر چاہتے ہیں لگاتے ہیں ان کی مثال شیطان کی سی ہے جب انسان کو کہتا ہے کفر اختیار کر پھر جب وہ اس کے کہنے کے مطابق کفر اختیار کرتا ہے اور شیطان جان جاتا ہے کہ اب یہ اچھی طرح پھنسا تو کھلے اور صاف لفظوں میں کہتا ہے تحقیق میں تجھ سے اور ترنے اس فعل سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں