اے نبی وہ واقعہ یاد کیجئے جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور آپ نے احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑ، اور اللہ سے ڈر اور اپنے جی میں وہ بات چھپارہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا اور آپ لوگوں سے ڈررہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس سے ڈریں پھر جب زید نے اس (بیوی) سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس (مطلقہ) کو اآپ کے نکاح میں دے دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹے کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں اور اللہ کایہ حکم تو ہوکرہی رہنے والا تھا (8) ۔