(تمہارے دو گروہ ہوگئے) ایک گروہ کو (اس کے ایمان و عمل کی وجہ سے کامیابی کی) راہ دکھلائی۔ دوسرے پر (اس کے انکار و بدعملی سے) گمراہی ثابت ہوگئی۔ ان لوگوں نے (یعنی دوسرے گروہ نے) خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا (یعنی مفسوں شریروں کی تقلید کی) بایں ہمہ سمجھے کہ راہ راست پر ہیں۔