33۔ 1 یعنی پیغمبر کی موجودگی میں قوم پر عذاب نہیں آتا، اس لحاظ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وجود گرامی ان کے حفظ و امان کا سبب تھا۔
33۔ 2 اس سے مراد یہ ہے کہ آئندہ مسلمان ہو کر استغفار کریں گے، یا یہ کہ طواف کرتے وقت مشرکین
غَفْرَانَکَ رَبَّنَا غْفُرَانَکَ کہا کرتے تھے۔