67۔ 1 یہ عذاب صَیْحَۃً (چیخ زور کی کڑک) کی صورت میں آیا، بعض کے نزدیک یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی چیخ تھی اور بعض کے نزدیک آسمان سے آئی تھی۔ جس سے ان کے دل پارہ پارہ ہوگئے اور ان کی موت واقعہ ہوگئی، اس کے بعد یا اس کے ساتھ ہی بھونچال رجفہ بھی آیا، جس نے سب کچھ تہ بالا کردیا۔ جیسا کہ سورۃ اعراف 78 (فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِہِمْ جٰثِمِیْنَ) میں فاخذتھم الرجفہ کے الفاظ ہیں
67۔ 2 جس طرح پرندہ مرنے کے بعد زمین پر مٹی کے ساتھ پڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ موت سے ہم
کنار ہو کر منہ کے بل زمین پر پڑے رہے۔