26۔ 1 یہ بددعا اس وقت کی جب حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہوگئے اور اللہ نے بھی اطلاع کردی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (وَاُوْحِیَ اِلٰی نُوْحٍ اَنَّہٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَیِٕسْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ 36ښ) 11۔ ہود:36) مطلب ہے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔