فهرس الكتاب

الصفحة 4653 من 6348

24۔ 1 جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے 80 آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر ان کو موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ اکرام کے خلاف کاروائی کریں چنانچہ یہ مسلح جتھہ جبل تغیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہوگیا اور انہوں نے ہمت کر کے تمام آدمیوں کو گرفتار کرلیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کردیا۔ ان کا جرم شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی۔ لیکن اس میں خطرہ یہی تھا پھر جنگ ناگزیر ہوجاتی۔ جب کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا مفاد تھا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا (صحیح مسلم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت