فهرس الكتاب

الصفحة 598 من 6348

102۔ 1 اس آیت میں صلوٰۃ الخوف کی اجازت بلکہ حکم دیا جا رہا ہے۔ صلوٰۃ الخوف کے معنی، خوف کی نماز یہ اس وقت مشروع ہے جب مسلمان اور کافروں کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل جنگ کے لئے تیار کھڑی ہوں تو ایک لمحے کی غفلت مسلمانوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ایسے حالات میں اگر نماز کا وقت ہوجائے تو صلوٰۃ الخوف پڑھنے کا حکم ہے، جس کی مختلف صورتیں حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ مثلًا فوج دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ایک حصہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا تاکہ کافروں کو حملہ کرنے کی جسارت نہ ہو اور ایک حصے نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی، جب یہ حصہ نماز سے فارغ ہوگیا تو یہ پہلے کی جگہ مورچہ زن ہوگیا اور مورچہ زن پہلے والا نماز کے لئے آگیا۔ بعض روایت میں آتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں حصوں کو ایک ایک رکعت پڑھائی، اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو رکعت اور باقی فوجیوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ بعض میں آتا ہے کہ دو دو رکعات پڑھائیں اس طرح آپ کی چار رکعت اور فوجیوں کی دو دو رکعت ہوئیں اور بعض میں آتا ہے کہ ایک رکعت پڑھ کر التحیات کی طرح بیٹھے رہے فوجیوں نے کھڑے ہو کر اپنے طور پر ایک رکعت اور پڑھ کر دو رکعات پوری کیں اور دشمن کے سامنے جا کر ڈٹ گئے۔ دوسرے حصے نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور التحیات میں بیٹھ گئے اور اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک فوجیوں نے دوسری رکعت پوری نہیں کرلی۔ پھر ان کے ساتھ آپ نے سلام پھیر دیا اس طرح آپ کی بھی دو رکعت اور فوج کے دونوں حصوں کی بھی دو رکعات ہوئیں۔ (دیکھئے کتب حدیث)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت