44۔ 1 یعنی کوہ طور پر جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا اور اسے وحی و رسالت سے نوازا، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو نہ وہاں موجود تھا اور نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا۔ بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم نے وحی کے ذریعے سے تجھے بتلا رہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا پیغمبر ہے۔ کیونکہ نہ تو نے یہ باتیں کسی سے سیکھی ہیں نہ خود ہی مشاہدہ کیا ہے۔ یہ مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مثلًا (ذٰلِکَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ ۭ وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ ۠وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ) 3۔ آل عمران:44) (تِلْکَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہَآ اِلَیْکَ ۚ مَا کُنْتَ تَعْلَمُہَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ) 11۔ ہود:49) (ذٰلِکَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیْکَ مِنْہَا قَاۗیِٕمٌ وَّحَصِیْدٌ) 11۔ ہود:100)، (ذٰلِکَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ ۚ وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَہُمْ وَہُمْ یَمْکُرُوْنَ) 12۔ یوسف:102)، (کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ اٰتَیْنٰکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا) 20۔ طہ:99) وغیرہ میں۔