82۔ 1 یعنی بغیر کسی خوف کے پہاڑ تراش لیا کرتے تھے۔ 9 ہجری میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بستی سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کرلیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گزرو (ابن کثیر)
صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔