49۔ 1 'اپنے رب سے ' کے الفاظ اپنی مشرکانہ ذہنیت کی وجہ سے کہے کیونکہ مشرکوں میں مختلف رب اور اللہ ہوتے تھے، موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے یہ کام کروا لو!
49۔ 2 یعنی ہمارے ایمان لانے پر عذاب ٹالنے کا وعدہ۔
49۔ 3 اگر عذاب ٹل گیا تو ہم تجھے اللہ کا سچا رسول مان لیں گے اور تیرے ہی رب کی عبادت کریں گے لیکن ہر دفعہ وہ اپنا یہ عہد توڑ دیتے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور سورۃ اعراف میں بھی گزرا۔