فهرس الكتاب

الصفحة 1217 من 6348

50۔ 1 بعض مفسرین نے اسے جنگ بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کی بابت قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب مشرکین مسلمانوں کی طرف آتے تو مسلمان ان کے چہروں پر تلواریں مارتے، جس سے بچنے کے لئے وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو فرشتے ان کی دبروں پر تلواریں مارتے، لیکن یہ آیت عام ہے جو ہر کافر و مشرک کو شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتے ان کے مونہوں اور پشتوں (یا دبروں یعنی چوتڑوں) پر مارتے ہیں، جس طرح سورۃ انعام میں بھی فرمایا: ( وَالْمَلٰۗیِٕکَۃُ بَاسِطُوْٓا اَیْدِیْہِمْ) 6۔ الانعام:93) فرشتے ان کو مارنے کے لئے ہاتھ دراز کرتے ہیں"اور بعض کے نزدیک فرشتوں کی یہ مار قیامت والے دن جہنم کی طرف لے جاتے ہوئے ہوگی اور داروغہ جہنم کہے گا"تم جلنے کا عذاب چکھو،

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت