35۔ 1 یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی گئی اور ان کی سفارش پر حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرما کر ان کا ساتھی اور مددگار بنا دیا گیا۔
35۔ 2 یعنی ہم تمہاری حفاظت فرمائیں گے، فرعون اور اس کے حوالی موالی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔
35۔ 3 یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا مثلًا، (قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْءٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰیۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ ۭوَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ) 5۔ المائدہ:68، ( الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَہٗ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ۭوَکَفٰی باللّٰہِ حَسِیْبًا) 33۔ الاحزاب:39) (کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ۭ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ) 58۔ المجادلہ:21) ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ 51ۙ یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ وَلَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ 52) 40۔ غافر:52-51)