فهرس الكتاب

الصفحة 3661 من 6348

23۔ 1 'جن کے لئے اجازت ہوجائے ' کا مطلب ہے انبیاء اور ملائکہ وغیرہ یعنی یہی سفارش کرسکیں گے، کوئی اور نہیں۔ اس لئے کہ کسی اور کی سفارش فائدے مند ہوگی، نہ انھیں اجازت ہی ہوگی۔ دوسرا مطلب ہے۔ مستحقین شفاعت۔ یعنی انبیاء علیہم السلام و ملائکہ اور صالحین صرف انھیں کے حق میں سفارش کرسکیں گے جو مستحقین شفاعت ہوں گے کیونکہ اللہ کی طرف سے انھیں کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ہوگی، کسی اور کے لئے نہیں (فتح القدیر) مطلب یہ ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ اور صالحین کے علاوہ وہاں کوئی سفارش نہیں کرسکے گا اور یہ حضرات بھی سفارش اہل ایمان گناہ گاروں کے لیے ہی کرسکیں گے کافر و مشرک اور اللہ کے باغیوں کے لیے نہیں قرآن کریم نے دوسرے مقام پر ان دونوں نکتوں کی وضاحت فرمادی ہے۔ (مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ) 2۔ البقرۃ:255) ( وَلَا یَشْفَعُوْنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی) 21۔ الانبیاء:28)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت