3۔ 1 وہ پوشیدہ بات شہد کو یا ماریہ کو حرام کرنے والی بات تھی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ سے کی تھی۔
3۔ 2 یعنی حفصہ رضی اللہ نے وہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ کو جاکر بتلا دی۔
3۔ 3 یعنی حفصہ رضی اللہ کو بتلا دیا کہ تم نے میرا راز فاش کردیا ہے۔ تاہم اپنی تکریم و عظمت کے پیش نظر ساری بات بتانے سے اعراض فرمایا۔
3۔ 4 جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ رضی اللہ کو بتلایا کہ تم نے میرا راز ظاہر کردیا ہے تو وہ حیران ہوئیں کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ کے علاوہ کسی کو یہ بات نہیں بتلائی تھی اور عائشہ رضی اللہ سے انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ آپ کو بتلا دیں گی، کیونکہ وہ شریک معاملہ تھیں۔
3۔ 5 اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔