144۔ 1 محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف رسول ہی ہیں ' یعنی ان کا امتیاز بھی وصف رسالت ہی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ بشری خصائص سے بالاتر اور خدائی صفات سے متصف ہوں کہ انہیں موت سے دو چار نہ ہونا پڑے
144۔ 2 جنگ احد میں شکست کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کافروں نے یہ افواہ اڑا دی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے۔ مسلمانوں میں جب یہ خبر پھیلی تو اس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے اور لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کافروں کے ہاتھوں قتل ہوجانا یا ان پر موت کا وارد ہوجانا، کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ پچھلے انبیاء علیہم السلام بھی قتل اور موت سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (بالفرض) اس سے دو چار ہوجائیں تو کیا تم اس دین سے ہی پھر جاؤ گے۔ یاد رکھو جو پھرجائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سانحہ وفات کے وقت جب حضرت عمر (رض) شدت جذبات میں وفات نبوی کا انکار کر رہے تھے، حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے نہایت حکمت سے کام لیتے ہوئے منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں کھڑے ہو کر انہی آیات کی تلاوت کی جس سے حضرت عمر (رض) بھی متاثر ہوئے اور انہیں محسوس ہوا کہ یہ آیات ابھی ابھی اتری ہیں۔
144۔ 3 یعنی ثابت قدم رہنے والوں کو جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کر کے اللہ کی نعمتوں کا عملی شکر ادا کیا۔