120۔ 1 اُ مَّۃٌ کے معنی پیشوا اور قائد کے بھی ہیں۔ جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے اور امت بمعنی امت بھی ہے، اس اعتبار سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وجود ایک امت کے برابر تھا۔ (امت کے معانی کے لئے(وَلَیِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓی اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗ ۭ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْہِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْہُمْ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُوْنَ) 11۔ ہود:8) کا حاشیہ دیکھئے)