25۔ 1 جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ عورت برائی کے ارتکاب پر مصر ہے، تو وہ باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف دوڑے، یوسف (علیہ السلام) کے پیچھے انھیں پکڑنے کے لئے عورت بھی دوڑی۔ یوں دونوں دروازے کی طرف لپکے اور دوڑے۔
25۔ 2 یعنی خاوند کو دیکھتے ہی خود معصوم بن گئی اور مجرم تمام تر یوسف (علیہ السلام) کو قرار دے کر ان کے لئے سزا بھی تجویز کردی۔ حالانکہ صورت حال اس کے برعکس تھی، مجرم خود تھی جب کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بالکل بے گناہ اور برائی سے بچنے کے خواہش مند اور اس کے لئے کوشاں تھے۔