4۔ 1 یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے قبل اکھٹے تھے، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعث ہوگئی، اس کے بعد یہ متفرق ہوگئے، ان میں سے کچھ مومن ہوگئے لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعث و رسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نقطہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالانکہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیونکہ یہ بہرحال علم والے تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔