فهرس الكتاب

الصفحة 6348 من 6348

6۔ 1 یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں، شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات فرمائی تو صحابہ کرام نے پوچھا کہ یارسول اللہ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور میرا مطیع ہوگیا ہے مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا (صحیح مسلم) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعتکاف فرما تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے کے لیے آئیں رات کا وقت تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں چھوڑنے کے لیے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بلا کر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہو سکتی تھی؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خوف کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔ (صحیح بخاری)

دوسرے شیطان، انسانوں میں سے ہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی تر غیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانوں کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں"رجال"کا لفظ بولا گیا ہے (وَّاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْہُمْ رَہَقًا ۝ ۙ) 72۔ الجن:6) اس لیے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت