171۔ 2 غلو کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کی حد سے بڑھا دینا۔ جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا کہ انہیں رسالت وبندگی کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کے مقام پر فائز کردیا اور ان کی اللہ کی طرح عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو بھی غلو کا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوم بنا ڈالا اور ان کو حرام وحلال کے اختیار وسے نواز دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے"اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ"009:031 (انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا) یہ رب بنانا حدیث کے مطابق ان کے حلال کیے کو حلال اور حرام کیے کو حرام سمجھنا تھا۔ درآنحالیکہ یہ اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے لیکن اہل کتاب نے یہ حق بھی اپنے علماء وغیرہ کو دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہل کتاب کو دین میں اسی غلو سے منع فرمایا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی عیسائیوں کے اس غلو کے پیش نظر اپنے بارے میں اپنی امت کو متنبہ فرمایا۔ (لاتطرونی کما اطرت النصاری عیسیٰ ابن مریم! فانما انا عبدہ، فقولوا: عبد اللہ و رسولہ"(صحیح بخاری۔ کتاب الانبیاء مسند احمد جلد 1 صفحہ 23 نیز دیکھئے مسند احمد جلد 1 صفحہ 153) تم مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بڑھایا، میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، پس تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہنا۔ لیکن افسوس امت محمدیہ اس کے باوجود بھی اس غلو سے محفوظ نہ رہ سکی جس میں عیسائی مبتلا ہوئے اور امت محمدیہ نے بھی اپنے پیغمبر کو بلکہ نیک بندوں تک کو خدائی صفات سے متصف ٹھرا دیا جو دراصل عیسائیوں کا وطیرہ تھا۔ اسی طرح علماء وفقہا کو بھی دین کا شارح اور مفسر ماننے کے بجائے ان کو شارع (شریعت سازی کا اختیار رکھنے والے) بنا دیا ہے۔ سچ فرمایا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے"جس طرح ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح تم پچھلی امتوں کی پیروی کرو گے"یعنی ان کے قدم بہ قدم چلو گے۔"
171۔ 1 کلمۃ اللہ کا مطلب ہے کہ لفظ کن سے باپ کے بغیر ان کی تخلیق ہوئی اور یہ لفظ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے سے حضرت مریم (علیہ السلام) تک پہنچایا گیا۔ روح اللہ کا مطلب وہ (پھونک) ہے جو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے حضرت مریم علیہا السلام کے گریبان میں پھونکا، جسے اللہ تعالیٰ نے باپ کے نطفہ کے قائم مقام کردیا۔ یوں عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا کلمہ بھی ہیں جو فرشتے نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور اس کی وہ روح ہیں جسے لے کر جبرائیل (علیہ السلام) مریم علیہا السلام کی طرف بھیجے گئے۔ (تفسیر ابن کثیر)
171۔ 2 عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں۔ بعض حضرت عیسیٰ کو اللہ اور بعض اللہ کا شریک اور بعض اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ پھر جو اللہ مانتے ہیں وہ (تین خداؤں) کے اور حضرت عیسیٰ کے ثالث ثلاثہ (تین سے ایک) ہونے کے قائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تین خدا کہنے سے باز آ جاؤ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے۔